hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4003

.

الطحاوي

4003
Al Tahawi
۴۰۰۳ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ بِشْرٍ الْکُوْفِیُّ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ زَائِدَۃَ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ‘ عَنِ الزُّہْرِیِّ‘ عَنْ عُرْوَۃ‘ عَنِ الْمِسْوَرِ‘ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ بِالْحُدَیْبِیَۃِ‘ خِبَاؤُہٗ فِی الْحِلِّ‘ وَمُصَلَّاہُ فِی الْحَرَمِ) .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ لَمْ یَکُنْ صُدَّ عَنِ الْحَرَمِ‘ وَأَنَّہٗ کَانَ یَصِلُ إِلٰی بَعْضِہٖ۔ وَلَا یَجُوْزُ فِیْ قَوْلِ أَحَدٍ مِنَ الْعُلَمَائِ ‘ لِمَنْ قَدَرَ عَلٰی دُخُوْلِ شَیْئٍ مِنَ الْحَرَمِ‘ أَنْ یَنْحَرَ ہَدْیَہٗ دُوْنَ الْحَرَمِ .فَلَمَّا ثَبَتَ بِالْحَدِیْثِ الَّذِیْ ذَکَرْنَا‘ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ کَانَ یَصِلُ إِلٰی بَعْضِ الْحَرَمِ اسْتَحَالَ أَنْ یَّکُوْنَ نَحْرُ الْہَدْیِ فِیْ غَیْرِ الْحَرَمِ‘ لِأَنَّ الَّذِیْ أَبَاحَ نَحْرَ الْہَدْیِ فِیْ غَیْرِ الْحَرَمِ‘ إِنَّمَا یُبِیْحُہُ فِیْ حَالِ الصَّدِّ‘ عَنِ الْحَرَمِ فِیْ حَالِ الْقُدْرَۃِ عَلٰی دُخُوْلِہٖ. فَانْتَفٰی بِمَا ذَکَرْنَا أَنْ یَّکُوْنَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَحْرَ الْہَدْیَ فِیْ غَیْرِ الْحَرَمِ‘ وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی. وَقَدْ احْتَجَّ قَوْمٌ فِیْ تَجْوِیْزِ نَحْرِ الْہَدْیِ فِیْ غَیْرِ الْحَرَمِ‘ بِمَا
٤٠٠٠٣: عروہ نے مسور بن مخرمہ (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حدیبیہ میں تھے اور آپ کا خیمہ تو حل میں تھا مگر مصلیٰ نماز حرم کی حدود میں تھا۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم سے نہ روکے گئے تھے کسی بھی عالم نے آج تک نہیں کہا کہ جو شخص حرم میں مطلقاً داخل ہو سکے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی ہدی حرم کے علاوہ نحر کرے۔ مذکورہ بیان سے ثابت ہوا کہ آپ کو حرم سے رکاوٹ نہیں ہوئی تھی ۔ حرم کے کچھ حصہ تک آپ پہنچ چکے تھے اور کسی بھی فقیہ کے ہاں کسی شخص کے لیے حرم سے باہر ھدی کا ذبح کرنا درست نہیں جو حرم کے کسی بھی حصہ میں داخلہ کی قدرت رکھتا ہو۔ جب مذکورہ روایت نے ثابت کردیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم کے بعض حصے تک پہنچ چکے تھے تو یہ بات ناممکن ہے کہ آپ نے حرم سے باہر قربانی کی ہو۔ کیونکہ حرم سے باہر ھدی کے نحر کا جواز اس صورت میں ہے جب حرم سے رکاوٹ ہو۔ حرم میں داخلہ کی طاقت میسر ہونے کی صورت میں جائز نہیں ۔ پس اس بیان سے اس چیز کی نفی ہوگئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حرم سے باہر ھدی ذبح کی یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے اور بعض حضرات نے غیر محرم میں ھدی کے ذبح پر اس روایت سے استدلال کیا ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حرم کے بعض حصہ میں داخل ہوئے تو یہ ناممکن ہے کہ ہدی کو غیر حرم میں ذبح کیا ہو کیونکہ جو لوگ ہدی کو حرم کے علاوہ جگہ میں ذبح کرنا جائز قرار دیتے ہیں وہ تو احصار کی حالت میں جائز کہتے ہیں اور یہاں تو حرم میں دخول کی قدرت تھی بیت اللہ میں داخلہ کی رکاوٹ تھی۔
اس سے وہ بات غلط ثابت ہوئی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہدی کو غیر حرم میں ذبح کیا تھا۔
یہ ہمارے ائمہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
ایک اشکال : قد احتج قوم سے ذکر کیا :
بعض لوگوں نے اس روایت کو غیر حرم میں ہدایا کے ذبح پر بطور دلیل پیش کیا ہے۔