۴۰۴۷ : مَا حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ‘ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ الْقَطَّانُ‘ عَنِ الْأَعْمَشِ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنْ عَلْقَمَۃَ (وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَۃَ لِلّٰہِ فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ) .قَالَ : اِذَا أُحْصِرَ الرَّجُلُ‘ بَعَثَ الْہَدْیَ .وَلَا تَحْلِقُوْا رُئُ وْسَکُمْ حَتّٰی یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا أَوْ بِہٖ أَذًی مِنْ رَأْسِہِ فَفِدْیَۃٌ مِنْ صِیَامٍ أَوْ صَدَقَۃٍ أَوْ نُسُکٍ) فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ .فَإِنْ عَجَّلَ فَحَلَقَ قَبْلَ أَنْ یَبْلُغَ الْہَدْیُ مَحِلَّہٗ، فَعَلَیْہِ فِدْیَۃٌ‘ مِنْ صِیَامٍ‘ أَوْ صَدَقَۃٍ‘ أَوْ نُسُکٍ‘ صِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ‘ أَوْ تَصَدَّقَ عَلَی سِتَّۃِ مَسَاکِیْنَ‘ کُلُّ مِسْکِیْنٍ نِصْفُ صَاعٍ‘ أَوْ النُّسُکُ شَاۃٌ .فَإِذَا أَمِنَ مِمَّا کَانَ بِہِ (فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ إِلَی الْحَجِّ) فَإِنْ مَضٰی مِنْ وَجْہِہٖ ذٰلِکَ‘ فَعَلَیْہِ حَجَّۃٌ‘ وَإِنْ أَخَّرَ الْعُمْرَۃَ إِلٰی قَابِلٍ فَعَلَیْہِ حَجَّۃٌ وَعُمْرَۃٌ وَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْہَدْیِ (فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلاَثَۃِ أَیَّامٍ فِی الْحَجِّ) آخِرُہَا یَوْمُ عَرَفَۃَ‘ (وَسَبْعَۃٍ اِذَا رَجَعْتُمْ) قَالَ : فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِسَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ فَقَالَ : ھٰذَا قَوْلُ عَبَّاسٍ وَعَقَدَ ثَلاَثِیْنَ .
٤٠٤٧: اعمش نے ابراہیم عن علقمہ نقل کیا ہے۔ واتموا الحج والعمرہ اللہ فان احصرتم فمااستیسر من الہدی (البقرہ ١٩٦) علقمہ کہنے لگے جب آدمی احصار میں آجائے تو ہدی روانہ کر دے ولا تحلقوا رؤسکم الایۃ تو صیام سے آیت میں تین دن کے روزے مراد ہیں اگر کسی نے ہدی پہنچنے سے پہلے حلق کروا لی تو اس پر فدیہ لازم ہوگا خواہ روزے رکھے یا صدقہ کرے یا دم دے یعنی تین روزے یا چھ مساکین پر صدقہ کہ ہر مسکین کو نصف صاع صدقۃ الفطر کی مقدار دے یا بکری ذبح کرے۔
جب وہ احصار سے چھوٹ گیا جس نے حج وعمرہ دونوں کا فائدہ اٹھایا یعنی دونوں کا احرام باندھا تھا مگر احصار پیش آنے سے ایام حج گزرے اور یہ احرام کے ساتھ رکا رہا اور چھوٹنے پر عمرہ کرلیا تو پھر اس پر صرف حج لازم ہوگا اور اگر اس نے عمرہ بھی نہ کیا تو اگلے سال حج وعمرہ دونوں کرے گا اور جو ہدی میسر ہو وہ دے گا اگر ہدی نہ ہو تو ایام حج سے پہلے تین دن کے روزے رکھے گا جن میں آخری روزہ یوم عرفہ کا ہوسکتا ہے اور سات فراغت حج کے بعد۔ ابراہیم کہتے ہیں میں نے سعید بن جبیر کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا یہ ابن عباس (رض) کا مکمل قول ہے۔