۴۰۴۸ : حَدَّثَنَا أَبُوْ شُرَیْحٍ مُحَمَّدُ بْنُ زَکَرِیَّا بْنِ یَحْیَی‘ قَالَ : ثَنَا الْفِرْیَابِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ‘ عَنِ الْأَعْمَشِ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنْ عَلْقَمَۃَ أَنَّہٗ قَالَ : فِیْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ لَنَا (فَإِنْ أُحْصِرْتُمْ) قَالَ : " مِنْ حَبْسٍ أَوْ مَرَضٍ " قَالَ اِبْرَاہِیْمُ : فَحَدَّثْتُ بِہٖ سَعِیْدَ بْنَ جُبَیْرٍ فَقَالَ : ہٰکَذَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا .فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ یَجْعَلْہُ یَحِلُّ مِنْ إِحْرَامِہٖ بِالْاِحْصَارِ حَتّٰی یَنْحَرَ عَنْہُ الْہَدْیَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ : (مَنْ کُسِرَ أَوْ عَرِجَ‘ فَقَدْ حَلَّ) .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَعْنَی " فَقَدْ حَلَّ " عِنْدَہٗ‘ أَیْ : لَہُ أَنْ یَحِلَّ‘ عَلٰی مَا ذَہَبْنَا إِلَیْہِ فِیْ ذٰلِکَ‘ وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ أَیْضًا‘ عَنْ غَیْرِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا .
٤٠٤٨: ابراہیم نے علقمہ سے بیان کیا کہ وہ ” فان احصرتم “ کے متعلق فرمانے لگے اس سے مراد قید کیا جانے والایا بیمار ہے۔ ابراہیم کہنے لگے میں نے یہ روایت سعید بن جبیر کو بیان کی تو فرمانے لگے ابن عباس (رض) نے بھی یہی فرمایا ہے۔ یہ ابن عباس (رض) ہیں جنہوں نے رکاوٹ ہوجانے کی وجہ سے اس کو نحر ہدی کے بعد حلال کی اجازت دی اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد : ” من کسر اوعرج فقد حل “ یہ دلالت کررہا ہے کہ اس کا معنیٰ یہ ہے کہ وہ گویا اس وقت حلال ہوگیا یعنی اس کے لیے حلال ہونا درست ہوگیا جس کی طرف ہم گئے ہیں اور یہ ابن عباس (رض) کے علاوہ دیگر اصحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بھی روایات آتی ہیں۔
حاصل روایت : ابن عباس (رض) نے احرام سے فراغت کے لیے ہدی کے نحر کرنے کو لازم قرار دیا اب معلوم ہوتا ہے کہ ” فقدحل “ والی روایت کا یہ مفہوم نہیں جو ظاہر سے معلوم ہوتا ہے ورنہ ابن عباس (رض) یہ نہ کہتے پس ثابت ہوا کہ حل کا معنی فقد حل۔ یعنی حلال ہونا اس کے لیے جائز ہوگیا۔
اور فقط اتنی بات نہیں کہ ابن عباس (رض) نے اس کو نقل کیا بلکہ دیگر اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ منقول ہے۔