۴۰۵۹ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا ہَارُوْنُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ الْجَزَّارُ‘ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمُبَارَکِ‘ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ أَنَّ أَبَا اِبْرَاہِیْمَ الْأَنْصَارِیَّ حَدَّثَہٗ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ (أَنَّ الرَّسُوْلَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ عَامَ الْحُدَیْبِیَۃِ‘ اسْتَغْفَرَ لِلْمُحَلِّقِیْنَ مَرَّۃً‘ وَلِلْمُقَصِّرِیْنَ مَرَّۃً .وَحَلَقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُہٗ رُئُ وْسَہُمْ‘ غَیْرَ رَجُلَیْنِ‘ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ‘ وَرَجُلٌ مِنْ قُرَیْشٍ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَلَمَّا حَلَقُوْا جَمِیْعًا إِلَّا مَنْ قَصَّرَ مِنْہُمْ‘ وَفَضَّلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَقَ مِنْہُمْ عَلٰی مَنْ قَصَّرَ‘ ثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّہُمْ قَدْ کَانَ عَلَیْہِمَ الْحَلْقُ وَالتَّقْصِیْرُ‘ کَمَا کَانَ عَلَیْہِمْ لَوْ وَصَلُوْا إِلَی الْبَیْتِ‘ وَلَوْلَا ذٰلِکَ لَمَا کَانُوْا فِیْہِ إِلَّا سَوَائً وَلَا کَانَ لِبَعْضِہِمْ فِیْ ذٰلِکَ فَضِیْلَۃٌ عَلٰی بَعْضٍ .فَفِیْ تَفْضِیْلِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ذٰلِکَ‘ الْمُحَلِّقِیْنَ عَلَی الْمُقَصِّرِیْنَ‘ دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہُمْ کَانُوْا فِیْ ذٰلِکَ‘ کَغَیْرِ الْمُحْصَرِیْنَ .فَقَدْ ثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ حُکْمَ الْحَلْقِ أَوْ التَّقْصِیْرِ لَا یُزِیْلُہٗ الْاِحْصَارُ‘ وَاَللّٰہَ أَسْأَلُہٗ التَّوْفِیْقَ .
٤٠٥٩: ابو ابراہیم انصاری نے ابو سعیدالخدری (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حدیبیہ والے سال محلقین کے لیے ایک مرتبہ اور مقصرین کے لیے ایک مرتبہ استغفار فرمایا اور جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کی اکثریت نے اپنے سروں کو حلق کروائے۔ صرف دو آدمیوں نے قصر کیا ایک انصاری اور ایک قریشی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں جب بعض کے علاوہ تمام نے حلق کروایا اور جناب رسول اللہ نے قصر والوں پر حلق والوں کی فضیلت ذکر فرمائی تو اس سے ثابت ہوگیا کہ ان پر قصر لازم تھا۔ جیسا کہ ان کے کعبہ شریف پر پہنچنے کی صورت میں لازم ہوتا ۔ اگر یہ بات نہ پائی جاتی تو وہ برابر شما ہوتے اور ایک دوسرے پر فضیلت نہ ہوتی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلق کرانے والوں کو قصر والوں سے افضل قرار دیا ۔ اس میں یہ دلیل ہے کہ وہ اس سلسلہ میں غیر محصر لوگوں کی طرح تھے جو کچھ ہم نے ذکر کیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ احصار (روک لیا جانا) قصر وحلق کے حکم کو زائل نہیں کرتا واللہ اسالہ التوفیق
استدلال طحاوی (رح) ۔ جب اکثریت سے حلق کروائے اور صرف دو نے قصر کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلق والوں کو قصر والوں پر فضیلت دی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان پر حلق و قصر بھی لازم تھا اگر وہ بیت اللہ تک پہنچ پاتے اور گھر تک پہنچنے میں اگر رکاوٹ نہ ہوتی تو سب برابر تھے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا محلقین کو مقصرین پر فضیلت دینا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ وہ حلق میں غیر محصرین کی طرح تھے۔ اس کو قدرت ہوتے ہوئے انھوں نے انجام دیا۔
پس اس سے یہ ثابت ہوا کہ حلق و تقصیر کو احصار زائل نہیں کرتا۔
اس باب میں طحاوی (رح) نے بعض عنوانات کو اپنے طرز سے ہٹ کر دلائل کو مقدم و مؤخر بنایا ہے ہم نے ان کے طرز کا لحاظ کر کے ان کو ذکر کردیا ہے مگر اس سے روایات کے نمر میں کوئی فرق نہیں آنے دیا بلکہ وہ اپنے تسلسل کے مطابق ہیں۔ آخری عنوان میں امام طحاوی (رح) کا رجحان فریق دوم کی طرف ہے اسی لیے ہم نے ان کے مؤقف کو بعد میں ذکر کیا ہے اگرچہ دلائل میں امام طحای (رح) نے یہاں اپنے طرز کا لحاظ کیا ہے۔