hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4060

.

الطحاوي

4060
Al Tahawi
۴۰۶۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلٰی‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی اِبْرَاہِیْمُ بْنُ عُقْبَۃَ‘ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا (أَنَّ امْرَأَۃً سَأَلَتَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ صَبِیٍّ ہَلْ لِھٰذَا مِنْ حَجٍّ ؟ قَالَ : نَعَمْ‘ وَلَک أَجْرٌ) .
٤٠٦٠: ابراہیم بن عقبہ نے ابن عباس (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ ایک عورت نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اپنے بچے کے متعلق سوال کیا۔ کیا اس کا حج ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں۔ اور تمہیں اس کا اجر ملے گا۔
تخریج : مسلم فی الحج ٤٠٩؍٤١٠‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٨‘ ترمذی فی الحج باب ٨٣‘ نسائی فی الحج باب ١٥‘ ابن ماجہ فی المناسک باب ١١‘ مالک فی الحج ٢٤٤‘ مسند احمد ١‘ ٢١٩؍٢٤٤‘ ٣٤٣؍٣٤٤۔
بچے کا حج تو بالاتفاق معتبر ہے مگر حجۃ الاسلام کی طرف سے اس کا یہ حج واقع ہوگا یا بلوغت کے بعد اسے دوبارہ حج کرنا ہوگا بعض محدثین کے ہاں اس کا یہ حج فرضی شمار ہوگا۔
تمام ائمہ جمہور فقہاء و محدثین کے ہاں اس کا حج تو معتبر ہے مگر حج فرضی کے لیے کافی نہ ہوگا۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : بچے کا حج معتبر ہے بلوغت کے بعد اسے دوبارہ حج کی ضرورت نہیں۔ دلیل یہ روایت ہے۔