۴۰۸۷ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ الْعَقَدِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا أَفْلَحُ بْنُ حُمَیْدٍ‘ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ (لَا یَدْخُلُ أَحَدٌ مَکَّۃَ إِلَّا مُحْرِمًا) .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : أَفَیَجُوْزُ لِمَنْ کَانَ بَعْدَ الْمَوَاقِیْتِ إِلٰی مَکَّۃَ أَنْ یَتَمَتَّعَ ؟ قِیْلَ لَہٗ : نَعَمْ‘ وَہُوَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا خِلَافُ أَہْلِ مَکَّۃَ‘ وَھٰذَا أَیْضًا خِلَافُ قَوْلِ أَصْحَابِنَا‘ وَلٰکِنَّہٗ النَّظَرُ - عِنْدَنَا - عَلٰی مَا قَدْ ذَکَرْنَا وَبَیَّنَّا‘ وَحَاضِرُو الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ - عِنْدَنَا - أَہْلُ مَکَّۃَ خَاصَّۃً .وَقَدْ قَالَ ھٰذَا الْقَوْلَ الَّذِیْ ذَہَبْنَا إِلَیْہِ - فِیْ ھٰذَا - نَافِعٌ مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ‘ وَعَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ ہُرْمُز الْأَعْرَجُ .
٤٠٨٧: افلح بن حمید نے قاسم بن محمد سے روایت کی کہ وہ فرماتے تھے کوئی شخص مکہ میں بلا احرام داخل نہ ہو۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حل میں رہنے والا یا آفاقی تاجر ‘ غیر تاجر مکہ میں بلا احرام داخل نہیں ہوسکتا۔
ایک اشکال :
کیا میقات کے اندر (حل میں رہنے والا) تمتع کرسکتا ہے یا نہیں اگر تمتع اس کے لیے جائز نہ ہو تو وہ مکی کے حکم میں ہیں اور اگر جائز ہو تو پھر آفاقی کے حکم میں ہیں۔
الجواب : اہل حل کے لیے تمتع سب کے ہاں جائز ہے اور اس حکم میں وہ اہل مکہ کے خلاف ہیں یہ بھی ہمارے علماء کے قول کے مخالف ہے لیکن نظر کا تقاضا یہی ہے جیسا کہ ہم ذکر کر آئے۔ حاضروا المسجدالحرام ۔ ہمارے نزدیک اس کی تفسیر خاص اہل مکہ ہیں اور تفسیر میں یہ قول نافع مولیٰ ابن عمر (رض) اور عبدالرحمن الاعرج کا بھی ہے اس تفسیر سے یہ ثابت ہوا کہ اہل مکہ کا حکم خاص ہے اہل حل کا حکم الگ ہے۔ ہذا ہوالمقصود ہاہنا۔