hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4088

.

الطحاوي

4088
Al Tahawi
۴۰۸۸ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ مَخْرَمَۃُ بْنُ بُکَیْرٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ قَالَ : سَمِعْتُ نَافِعًا مَوْلَی ابْنِ عُمَرَ یَسْأَلُ عَنْ قَوْلِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ (ذٰلِکَ لِمَنْ لَمْ یَکُنْ أَہْلُہٗ حَاضِرِی الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ) أَجَوْفَ مَکَّۃَ‘ أَمْ حَوْلَہَا ؟ قَالَ : جَوْفَ مَکَّۃَ‘ وَقَالَ ذٰلِکَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ الْأَعْرَجُ.
٤٠٨٨: مخرمہ بن بکیر کہتے ہیں کہ میں نے نافع مولیٰ ابن عمر (رض) کو فرماتے سنا جب ان سے ” ذلک لمن لم یکن اہلہ حاضری المسجدالحرام “ (البقرہ ١٩١) کے متعلق پوچھا گیا کیا مکہ کے اندرون لوگ مراد ہیں یا اطراف مکہ کے لوگ بھی ؟ تو انھوں نے فرمایا اندرون مکہ کے لوگ مراد ہیں۔ اور یہ عبدالرحمن الاعرج نے بھی بات فرمائی۔
تعمیر کعبہ کے مراحل عشرہ :
نمبر 1: تخلیق انسانی سے پہلے فرشتوں نے تعمیر کی۔ نمبر 2: آدم (علیہ السلام) نے دنیا میں اترنے کے بعد تعمیر کی۔
نمبر 3: حضرت شعیب (علیہ السلام) نے تعمیر کی۔ نمبر 4: ابراہیم (علیہ السلام) نے تعمیر کی۔
نمبر 5: عمالقہ کی تعمیر۔ نمبر 8: تعمیر بنو جرہم۔
نمبر 9: تعمیر قصی بن کلاب۔ نمبر 10: تعمیر قریش۔
نمبر :11 تعمیر عبداللہ بن زبیر۔ نمبر 12: تعمیر حجاج۔ (تاریخ مکہ)
گیارہویں مرتبہ سلطان مراد خان ١٠٤٠ ھ اکثر حصہ کو منہدم کر کے تعمیر کیا البتہ حجر اسود والا حصہ قد آدم اسی طرح قائم رہا۔
(تاریخ تقویم ج ٣)
حاصل کلام : گویا امام طحاوی (رح) کے ہاں آفاقی ‘ اہل میقات ‘ اہل حل تینوں کو حرم میں بلا احرام داخل ہونا جائز نہ ہوگا اور احناف کے نزدیک صرف آفاق والوں کے لیے داخلہ حرم کے لیے احرام لازم ہے بلا احرام میقات سے تجاوز نہیں کرسکتے اور اہل حرم اور اہل میقات حج وعمرہ کی نیت سے حرم میں بلا احرام داخل نہیں ہوسکتے تجارت وغیرہ کی غرض سے داخل ہوسکتے ہیں۔