۴۰۹۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ‘ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ أَنَّ زِیَادَ بْنَ أَبِیْ سُفْیَانَ‘ کَتَبَ إِلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ (عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ مَنْ أَہْدَی ہَدْیًا‘ حَرُمَ عَلَیْہِ مَا یَحْرُمُ عَلَی الْحَاجِّ حَتّٰی یَنْحَرَ ہَدْیَہٗ‘ وَقَدْ بَعَثْتُ بِہَدْیٍ‘ فَاکْتُبِیْ إِلَیَّ بِأَمْرِک‘ أَوْ مُرِیْ صَاحِبَ الْہَدْیِ .فَقَالَتْ عَائِشَۃُ لَیْسَ کَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ‘ أَنَا فَتَلْت قَلَائِدَ ہَدْیِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِیْ‘ ثُمَّ قَلَّدَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِیَدِہٖ، ثُمَّ بَعَثَ بِہَا مَعَ أَبِیْ‘ فَلَمْ یَحْرُمْ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْء ٌ أَحَلَّہٗ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لَہٗ حَتّٰی نَحَرَ الْہَدْیَ)
٤٠٩٠: عمرہ بنت عبدالرحمن کہتی ہیں کہ زیاد بن ابی سفیان نے حضرت عائشہ (رض) کی طرف لکھ بھیجا کہ عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ جو ہدی روانہ کرے تو اس پر محرم والی پابندیاں لازم ہوجاتی ہیں اور وہ ان کا لحاظ ہدی کے ذبح ہونے تک کرے گا۔ میں نے ہدی روانہ کردی اب میرے لیے کیا حکم ہے۔ آپ اپنا ارشاد میری طرف لکھ بھیجیں یا ہدی والے کو حکم فرما دیں حضرت عائشہ (رض) نے (لکھ بھیجا) کہ بات اس طرح نہیں جس طرح ابن عباس (رض) نے کہی۔ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہدی کے قلادے بناتی تھی پھر وہ قلادے اپنے دست اقدس سے ہدی کو ڈالتے اور ان کو میرے والد محترم کی معیت میں روانہ کرتے مگر اس کے باوجود آپ پر ہدی کے ذبح ہونے تک کوئی چیز حرام نہ ہوتی۔
تخریج : بخاری فی الحج باب ١٠٦؍١١١‘ مسلم فی الحج ٣٦٢؍٣٦٤‘ ابو داؤد فی المناسک باب ١٦‘ نسائی فی المناسک باب ٦٦‘ مسند احمد ٦‘ ٧٨؍٢٢٤۔