hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4089

.

الطحاوي

4089
Al Tahawi
۴۰۸۹ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ : ثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِیْلَ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ عَطَائِ ابْنِ أَبِیْ لَبِیْبَۃَ‘ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ جَابِرٍ‘ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (کُنْتُ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَالِسًا فَقَدَ قَمِیْصَہُ مِنْ جَیْبِہٖ، حَتّٰی أَخْرَجَہٗ مِنْ رِجْلَیْہِ .فَنَظَرَ الْقَوْمُ إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنِّیْ أَمَرْتُ بِبَدَنِی الَّتِی بُعِثْتُ بِہَا أَنْ تُقَلَّدَ الْیَوْمَ وَتُشْعَرَ‘ عَلٰی مَکَانِ کَذَا وَکَذَا فَلَبِسْت قَمِیْصِی وَنَسِیْتُ، فَلَمْ أَکُنْ لِأُخْرِجَ قَمِیْصِی مِنْ رَأْسِیْ وَکَانَ بَعَثَ بِبَدَنِہِ فَأَقَامَ بِالْمَدِیْنَۃِ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الرَّجُلَ اِذَا بُعِثَ بِالْہَدْیِ‘ وَأَقَامَ فِیْ أَہْلِہِ فَقَلَّدَ الْہَدْیَ وَأَشْعَرَ أَنَّہٗ یَتَجَرَّدُ فَیُقِیْمُ کَذٰلِکَ‘ حَتّٰی یَحِلَّ النَّاسُ مِنْ حَجِّہِمْ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ وَرَوَوْا ذٰلِکَ أَیْضًا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ .
٤٠٨٩: عبدالملک بن جابر نے جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کی ہے کہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں بیٹھا تھا کہ آپ نے اپنا قمیص گریبان سے پھاڑ دیا یہاں تک کہ اس کو اپنے دونوں پاؤں کی طرف سے نکالا۔ لوگوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے اپنے بدنہ کے متعلق جس کو میں نے روانہ کرنا تھا حکم دیا کہ آج فلاں مقام پر اس کو اشعار کیا جائے پس میں نے اپنا قمیص بھول کر پہن لیا چنانچہ میں نے پسند نہ کیا کہ قمیص کو سر سے نکالوں (اس لیے قدموں کی طرف سے نکالا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بدنہ روانہ کر کے مدینہ منورہ میں قیام فرمایا تھا۔
تخریج : مسند احمد ٣؍٤٠٠۔
نمبر 1: امام ابوحنیفہ (رح) اس کو مکروہ کہتے ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) ومالک (رح) کے ہاں چھوٹے جانوروں کا قلادہ نہ ثابت ہے نہ مسنون البتہ امام شافعی ‘ احمد کے ہاں قلائد غنم بھی مسنون ہے۔ ہدی کا جانور قلادہ ڈال کر روانہ کردیا جائے تو امام شعبہ ‘ حسن بصری اور عطاء ‘ مجاہد رحمہم اللہ کے ہاں وہ محرم ہوجائے گا اور تمام احکامات محرم اس پر لاگو ہوجائیں گے۔ ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء و محدثین کے ہاں محرمات احرام ہدی کے ساتھ جانے سے لازم ہوتے ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف ہدی کو قلادہ ڈالنے یا اشعار کرنے سے محرم پر احرام کی تمام پابندیاں لازم ہوجاتی ہیں۔ دلیل یہ روایات ہیں۔