۴۱۱۱ : وَقَدْ حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیْدٍ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِبْرَاہِیْمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ‘ عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْہَدِیْرِ‘ أَنَّہٗ رَأٰی رَجُلًا مُتَجَرِّدًا بِالْعِرَاقِ قَالَ : فَسَأَلْتُ النَّاسَ عَنْہُ فَقَالُوْا أَمَرَ بِہَدْیِہِ أَنْ یُقَلَّدَ‘ فَلِذٰلِکَ تَجَرَّدَ .قَالَ رَبِیْعَۃُ : فَلَقِیْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ فَقَالَ : بِدْعَۃٌ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ .وَلَا یَجُوْزُ عِنْدَنَا أَنْ یَّکُوْنَ ابْنُ الزُّبَیْرِ حَلَفَ عَلٰی ذٰلِکَ أَنَّہٗ بِدْعَۃٌ‘ إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ السُّنَّۃَ خِلَافُ ذٰلِکَ .
٤١١١: ابراہیم بن حارث تیمی نے ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر سے روایت کی ہے کہ انھوں نے عراق میں ایک متجرد آدمی دیکھا تو اس کے متعلق لوگوں سے پوچھا انھوں نے کہا اس نے اپنے ہدی کو قلادہ ڈالنے کا حکم دیا ہے اس وجہ سے اس نے تجرد اختیار کیا ہے۔ ربیعہ کہنے لگے کہ میں عبداللہ بن زبیر (رض) کو ملا تو وہ کہنے لگے۔ رب کعبہ کی قسم یہ بدعت ہے۔ حضرت ابن زبیر (رض) کا قسم اٹھانا اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ یہ فعل خلاف سنت اور بدعت ہے۔