hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4112

.

الطحاوي

4112
Al Tahawi
۴۱۱۲ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ‘ عَنْ أَیُّوْبَ‘ عَنْ أَبِی الْعَالِیَۃِ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَنِ الرَّجُلِ یَبْعَثُ بِہَدْیِہِ‘ أَیُمْسِکُ عَنْ النِّسَائِ ؟ .فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : مَا عَلِمْنَا الْمُحْرِمَ یَحِلُّ‘ حَتّٰی یَطُوْفَ بِالْبَیْتِ .فَمَعْنٰی ھٰذَا‘ أَنَّ الْمُحْرِمَ الَّذِیْ تَحْرُمُ عَلَیْہِ النِّسَائُ ‘ ہُوَ الَّذِیْ یَحِلُّ مِنْ ذٰلِکَ‘ بِالطَّوَافِ بِالْبَیْتِ ھٰذَا‘ لَا طَوَافَ عَلَیْہِ فَلاَ مَعْنَی لِاجْتِنَابِہِ ذٰلِکَ .وَھٰذَا خِلَافُ مَا قَدْ رَوَیْنَاہُ‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ فِیْ أَوَّلِ ھٰذَا الْبَابِ .
٤١١٢: ایوب نے ابوالعالیہ سے نقل کیا کہ میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا کہ ہدی روانہ کرنے والا کیا عورتوں کے پاس نہ جائے۔ ابن عمر (رض) فرمانے لگے ہم نے ایسا محرم نہیں دیکھا جو بلاطواف حلال ہوجاتا ہو۔ اس قول کا مفہوم یہ ہے کہ جس محرم پر عورتیں حرام ہیں یہ وہی ہے جو اس حرمت سے تب نکلتا ہے جب کہ وہ بیت اللہ کا طواف کرلے اور وہ شخص جو ھدی روانہ کرتا ہے اور گھر مقیم ہے اس پر طواف نہیں پس اس کے سلے کپڑوں سے اجتناب کا کوئی مطلب نہیں۔ یہ روایت اس کے خلاف ہے جو شروع باب میں ابن عمر (رض) سے روایت کی ہے۔
حاصل روایات : ابن عمر (رض) کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جس محرم کے لیے عورتیں حرام ہوتی ہیں وہ تو وہی جو بیت اللہ کے طواف سے حلال ہوتا ہے جب اس کے ذمہ طواف نہیں تو اس کے محرم کی طرح محرمات احرام سے اجتناب کا کوئی معنی نہیں۔ یہ ارشاد اس روایت کے خلاف ہے جو باب کے شروع میں ہم نے نقل کی ہے معلوم ہوا کہ وہ روایت قابل استدلال نہیں کیونکہ فتویٰ راوی اس کے خلاف ہے۔ پس عدم حرمت کی روایت معتبر ہوگی۔
امام طحاوی (رح) کا طرز یہ ہے کہ وہ راجح اقوال و روایات میں ہمیشہ ایسی روایات لانے کی کوشش کرتے ہیں جو انہی روات سے ہوں جن کی روایات مرجوح قول میں مذکور ہوں تاکہ کسی نئی دلیل کے بغیر خودبخود روایت سابقہ کا جواب ہوجائے۔