۴۱۱۳ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ أَنَّ مَالِکًا وَابْنَ أَبِیْ ذِئْبٍ حَدَّثَاہُ‘ عَنْ نَافِعٍ عَنْ نَبِیْہِ بْنِ وَہْبٍ أَخِیْ بَنِیْ عَبْدِ الدَّارِ‘ عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِیْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ‘ یَقُوْلُ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لَا یَنْکِحُ الْمُحْرِمُ‘ وَلَا یُنْکِحُ وَلَا یَخْطُبُ) .
٤١١٣: ابان بن عثمان (رح) نے کہا کہ میں نے اپنے والد عثمان بن عفان (رض) کو کہتے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا محرم نہ نکاح کرے اور نہ نکاح کر کے دے اور نہ پیغام نکاح دے۔
تخریج : مسلم فی النکاح ٤١؍٤٢‘ ٤٣؍٤٤‘ ابو داؤد فی المناسک باب ٣٨‘ ترمذی فی الحج باب ٢٣‘ نسائی فی المناسک باب ٩١‘ والنکاح باب ٣٨‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ٤٥‘ دارمی فی النکاح باب ١٧‘ مالک فی الحج ٧٠؍٧٣‘ مسند احمد ١؍٥٧‘ ٦٤؍٦٥‘ ٦٨؍٧٣۔
حالت احرام میں وطی یا دواعی وطی تو بالاتفاق حرام و ممنوع ہیں مگر اس بارے میں اختلاف ہے۔ کہ محرم نکاح کا عقد اور پیغام نکاح دے سکتا ہے یا نہیں۔ اس میں دو مذہب منقول ہیں۔
نمبر 1: ائمہ ثلاثہ سعید بن المسیب سالم بن عبداللہ رحمہم اللہ کے ہاں عقد نکاح اور پیغام نکاح دونوں حرام و ناجائز ہیں اگر نکاح کیا تو درست نہ ہوگا۔
نمبر 2: ائمہ احناف اور عطاء ابراہیم ‘ سفیان رحمہم اللہ کے ہاں پیغام نکاح اور عقد نکاح ہر دو جائز و درست ہیں۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل : محرم کو حالت احرام میں نکاح اور پیغام نکاح دونوں حرام و ناجائز ہیں اگر نکاح کیا تو وہ باطل ہے۔ دلیل یہ ہے۔