hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4133

.

الطحاوي

4133
Al Tahawi
۴۱۳۳ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ قَالَ : حَدَّثَنِیْ جَرِیْرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّہٗ سَمِعَ أَبَا فَزَارَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ یَزِیْدَ بْنِ الْأَصَمِّ قَالَ : (أَخْبَرَتْنِیْ مَیْمُوْنَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَزَوَّجَہَا حَلَالًا) .فَکَانَ مِنْ حُجَّتِنَا عَلَیْہِمْ أَنَّ ھٰذَا الْأَمْرَ إِنْ کَانَ یُؤْخَذُ مِنْ طَرِیْقِ صِحَّۃِ الْاِسْنَادِ وَاسْتِقَامَتِہٖ‘ وَہٰکَذَا مَذْہَبُہُمْ‘ فَإِنَّ حَدِیْثَ أَبِیْ رَافِعٍ الَّذِیْ ذَکَرُوْا‘ فَإِنَّمَا رَوَاہُ مَطَرٌ الْوَرَّاقُ‘ وَمَطَرٌ - عِنْدَہُمْ - لَیْسَ ہُوَ مِمَّنْ یُحْتَجُّ بِحَدِیْثِہٖ .وَقَدْ رَوَاہُ مَالِکٌ‘ وَہُوَ أَضْبَطُ مِنْہُ‘ وَأَحْفَظُ‘ فَقَطَعَہُ .
٤١٣٣: یزید بن اصم (رض) کہتے ہیں کہ مجھے میمونہ بنت حارث نے خبر دی کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حلال ہونے کی حالت میں ان سے نکاح فرمایا۔ ان کے خلاف ہماری دلیل یہ ہے کہ اگر اس مسئلہ کو صحت سند کے لحاظ سے لیں اور فریق اوّل کا مسلک یہی ہے تو حضرت ابو رافع کی روایت جو ان کی طرف سے مذکور ہوئی ۔ اس کو مطروراق نے روایت کیا ہے اور فریق اوّل والوں کے ہاں مطر ایسا راوی نہیں جس کی روایت قابل استدلال ہو اور دوسری طرف اس کو مالک (رح) نے روایت کیا جو ضبط وحفظ میں ان سے بڑھ کر ہیں انھوں نے اس روایت کو منقطع روایت کیا ہے۔
تخریج : ابن ماجہ فی النکاح باب ٤٥۔
حل اشکال :
اس بات کو اگر روایت کی اسناد اور استقامت اسناد کے لحاظ سے لیا جائے اور فریق اوّل کے ہاں یہ مسلم ہے تو روایت ابو رافع (رض) جس کا تذکرہ اوپر کی سطور میں ہوا جس کو مطرالوراق اور مطر (ان کے ہاں) وہ اس مقام مرتبہ میں نہیں ہے جن کی روایت سے احتجاج کیا جاتا ہے۔ ذرا توجہ فرمائیں کہ اس روایت کو مشہور امام حدیث امام مالک (رح) جو اس سے بڑے ضابط ‘ حافظ ہیں انھوں نے اس تفصیل سے نقل کیا ہے جو اس بات کو بالکل قطع کردیتی ہے۔ روایت مالک (رح) یہ ہے۔
تخریج : ترمذی فی الحج باب ٢٣‘ دارمی فی المناسک باب ٢١‘ مسند احمد ٦؍٣٩٣۔