۴۱۳۴ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنْ رَبِیْعَۃَ بْنِ أَبِیْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ یَسَارٍ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ بَعَثَ أَبَا رَافِعٍ مَوْلَاہُ‘ وَرَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ‘ فَزَوَّجَاہُ مَیْمُوْنَۃَ بِنْتَ الْحَارِثِ‘ وَہُوَ بِالْمَدِیْنَۃِ‘ قَبْلَ أَنْ یَخْرُجَ) .وَحَدِیْثُ یَزِیْدَ بْنِ الْأَصَمِّ‘ فَقَدْ ضَعَّفَہُ عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ فِیْ خِطَابِہِ لِلزُّہْرِیِّ‘ وَتَرَکَ الزُّہْرِیُّ الْاِنْکَارَ عَلَیْہٖ‘ وَأَخْرَجَہٗ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ‘ وَجَعَلَہُ أَعْرَابِیًّا بَوَّالًا‘ وَہُمْ یُضَعِّفُوْنَ الرَّجُلَ بِأَقَلَّ مِنْ ھٰذَا الْکَلَامِ‘ وَبِکَلَامِ مَنْ ہُوَ أَقَلُّ مِنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ وَالزُّہْرِیِّ .فَکَیْفَ وَقَدْ أَجْمَعَا جَمِیْعًا عَلَی الْکَلَامِ بِمَا ذَکَرْنَا‘ فِیْ یَزِیْدَ بْنِ الْأَصَمِّ ؟ وَمَعَ ھٰذَا فَإِنَّ الْحُجَّۃَ عِنْدَکُمْ‘ فِیْ مَیْمُوْنَ بْنِ مِہْرَانَ‘ ہُوَ جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ‘ وَقَدْ رُوِیَ ھٰذَا الْحَدِیْثَ مُنْقَطِعًا .
٤١٣٤: مالک نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے انھوں نے سلیمان بن یسار سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے غلام ابو رافع اور ایک انصاری (رض) کو بھیجا انھوں نے میمونہ بنت الحارث کو آپ کی طرف سے پیغام نکاح دیا اس وقت آپ مدینہ منورہ میں تھے اور عمرۃ القضاۃ کے لیے روانہ نہیں ہوئے تھے۔ روایت یزید بن اصم (رح) کو عمر وبن دینار (رح) نے زہری کے ساتھ گفتگو میں ضعیف قرار دیا ہے۔ زہری نے منکر قرار دے کر اس کو ترک کردیا اور اس کو اہل علم سے نکالتے ہوئے اس کو بہت پیشاب کرنے والا دیہاتی قرار دیا اور فریق اوّل کے لوگ تو اس سے کم درجہ کے کلام سے بھی ضعیف قرار دے دیتے ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ بات بھی ہے۔ تمہارے ہاں میمون بن مہران کے سلسلہ میں جعفر بن برقان حجت ہیں حالانکہ یہ روایت منقطع روایت کی گئی ہے۔
جواب نمبر ": یزید بن اصم (رض) کی روایت کو عمرو بن دینار نے زہری کے ساتھ گفتگو میں کمزور قرار دیا اور زہری نے ان کے جواب میں انکار نہیں فرمایا عمرو نے اس کو اہل علم سے خارج کر کے کثرت سے پیشاب والا بدو شمار کیا ہے اور فریق اوّل تو اس سے کم تنقید پر آدمی کو ضعیف قرار دے دیتے ہیں خواہ تنقید والے عمرو بن دینار اور زہری کے پایہ کے لوگ نہ بھی ہوں ‘ اب جناب کا کیا خیال ہے جب کہ دونوں عظیم ثقہ محدث اس کو نقد و تبصرہ میں بوال قرار دے رہے ہیں۔
یہاں یزید بن اصم (رض) کی روایت کو برسبیل تسلیم مانتے ہوئے عرض کرتے ہیں یزید بن اصم کی یہ روایت حبیب بن میمون بن مہران سے مروی ہے حالانکہ ان کی روایت جعفر بن برقان عن میمون بن مہران عن یزید بن اصم (رض) زیادہ معتبر ہے۔ اس روایت یزید بن اصم پر موقوف ہے جیسا کہ میمون بن مہران اور عطاء بن ابی رباح (رح) کے درمیان مناظرہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔ روایت یہ ہے۔