۴۱۵۴: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ دَاوٗدَ بْنِ قَیْسٍ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ، مَوْلَی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرِ بْنِ کَرِیْرٍ ، عَنْ أَبِیْ ہُرَیْرَۃَ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَبِیْعُ بَعْضُکُمْ عَلٰی بَیْعِ بَعْضٍ ، وَلَا یَخْطُبْ بَعْضُکُمْ عَلٰی خِطْبَۃِ بَعْضٍ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلَی ہَذَا وَقَالُوْا : لَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ یَسُوْمَ بِشَیْئٍ قَدْ یُسَاوِمُ بِہٖ غَیْرُہٗ حَتّٰی یَتْرُکَہُ الَّذِیْ قَدْ سَاوَمَ بِہٖ .فَکَذٰلِکَ لَا یَنْبَغِی لَہٗ أَنْ یَخْطُبَ امْرَأَۃً قَدْ خَطَبَہَا غَیْرُہٗ، حَتّٰی یَتْرُکَہَا الْخَاطِبُ لَہَا ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِہٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : اِنْ کَانَ الْمُسَاوِمُ أَوِ الْخَاطِبُ قَدْ رُکِنَ اِلَیْہِ، فَلَا یَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ یَسُوْمَ عَلٰی سَوْمِہٖ، وَلَا یَخْطُبُ عَلٰی خِطْبَتِہٖ، حَتّٰی یَتْرُکَ .قَالُوْا : وَہٰذَا السَّوْمُ وَالْخِطْبَۃُ الْمَذْکُوْرَانِ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ الْمَنْہِیِّ عَنْہُمَا ، اِنَّمَا النَّہْیُ فِیْہَا عَمَّا ذَکَرْنَاہُ .فَأَمَّا مَنْ سَاوَمَ رَجُلًا بِشَیْئٍ ، أَوْ خَطَبَ اِلَیْہِ امْرَأَۃً ہُوَ وَلِیُّہَا ، فَلَمْ یُرْکَنْ اِلَیْہِ، فَمُبَاحٌ لِغَیْرِہٖ مِنَ النَّاسِ أَنْ یَسُوْمَ بِمَا سَاوَمَ بِہٖ ، وَیَخْطُبَ بِمَا خَطَبَ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ ۔
٤١٥٤: مولیٰ عبداللہ بن عامر بن کریز نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ ایک دوسرے کی منگنی کے پیغام پر پیغام نکاح بھیجے۔ امام طحاوی نے ان ہی روایات سے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ایک چیز کا سودا کرچکا ہو تو دوسرے کو اس پر سودا نہ کرنا چاہیے اگر وہ اپنا سودا چھوڑ دیتا ہے تو پھر سودا کرنا جائز ہے بالکل اسی طرح کسی عورت کو اگر کسی مسلمان نے پیغام نکاح دیا ہو تو جب تک وہ اپنا پیغام نکاح ترک نہ کرے دوسرے کو پیغام پر پیغام درست نہیں ہے۔ فریق ثانی کا مؤقف یہ ہے کہ اگر بولی لگانے والا یا پیغام نکاح بھیجنے والا اس سودے کی طرف مکمل طور پر جھک چکا ہو تو کسی دوسرے کو اس کی بولی پر بولی لگانا یا منگنی کا پیغام دینا جائز نہیں جب تک کہ پہلا اس کو ترک نہ کر دے۔ جس سودے پر سودے کی ممانعت کی گئی ہے اس سے مراد وہی ہے جس کی طرف پہلے خریدار کا مکمل رجحان ہوچکا ہو اسی طرح منگنی کے پیغام پر بھی وہی پیغام ممنوع ہے جس کا وہ خود ولی ہے اور اس کا جھکاؤ اگر پیغام دینے والے کی طرف ہی ہے اور اگر اس کا جھکاؤ نہ ہو تو اس کو پیغام دینا ممنوع نہیں ہے اور انھوں نے مندرجہ ذیل روایات سے استدلال کیا ہے۔
امام طحاوی (رح) کا ارشاد :
فریق اوّل : نے ان ہی روایات سے استدلال کیا ہے کہ اگر کوئی مسلمان ایک چیز کا سودا کرچکا ہو تو دوسرے کو اس پر سودا نہ کرنا چاہیے اگر وہ اپنا سودا چھوڑ دیتا ہے تو پھر سودا کرنا جائز ہے بالکل اسی طرح کسی عورت کو اگر کسی مسلمان نے پیغام نکاح دیا ہو تو جب تک وہ اپنا پیغام نکاح ترک نہ کرے دوسرے کو پیغام پر پیغام درست نہیں ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : یہ ہے کہ اگر بولی لگانے والا یا پیغام نکاح بھیجنے والا اس سودے کی طرف مکمل طور پر جھک چکا ہو تو کسی دوسرے کو اس کی بولی پر بولی لگانا یا منگنی کا پیغام دینا جائز نہیں جبکہ پہلا اس کو ترک نہ کر دے۔
فریق اوّل کا جواب : مذکورہ بالا روایات میں جس سودے پر سودے کی ممانعت کی گئی ہے اس سے مراد وہی ہے جس کی طرف پہلے خریدار کا مکمل رجحان ہوچکا ہو اسی طرح منگنی کے پیغام پر بھی وہی پیغام ممنوع ہے جس کا وہ خود ولی ہو اور اس کا جھکاؤ پیغام دینے والے کی طرف ہو اور اگر اس کا جھکاؤ نہ ہو تو اس کو پیغام دینا ممنوع نہیں ہے۔
فریق دوم کی مستدل روایات درج ذیل ہیں۔