۴۱۷۸: وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا أَبُو الْوَلِیْدِ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِیْ بُرْدَۃَ ، عَنْ أَبِیْ مُوْسَیْ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نِکَاحَ اِلَّا بِوَلِی .قِیْلَ لَہُمْ : قَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ عَوَانَۃَ ہَذَا کَمَا ذَکَرْتُمْ ، وَلٰـکِنَّا نَظَرْنَا فِیْ أَصْلِ ذٰلِکَ ، فَاِذَا ہُوَ عَنْ أَبِیْ عَوَانَۃَ ، عَنْ اِسْرَائِیْلَ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، فَرَجَعَ حَدِیْثُ أَبِیْ عَوَانَۃَ أَیْضًا اِلَیْ حَدِیْثِ اِسْرَائِیْلَ .
٤١٧٨: ابوالولید نے ابو عوانہ سے انھوں نے ابو اسحاق سے انھوں نے ابو بردہ سے انھوں نے ابو موسیٰ سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ہے کہ ولی کی اجازت کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس روایت کو ابو عوانہ نے نقل کیا ہے مگر جب سند پر نگاہ ڈالی تو ابو عوانہ نے بھی اسرائیل سے ہی روایت کی ہے پس دوبارہ لوٹ کر معاملہ تو اسرائیل پر چلا گیا۔
تخریج : ابو عوانہ۔
جواب اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اس روایت کو ابو عوانہ نے نقل کیا ہے مگر جب سند پر نگاہ ڈالی تو ابو عوانہ نے بھی اسرائیل سے ہی روایت کی ہے پس دوبارہ لوٹ کر معاملہ تو اسرائیل پر آگیا۔ ملاحظہ فرمائیں۔