۴۱۷۹: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ أَبُوْ أُمَیَّۃَ قَالَ : ثَنَا الْمُعَلَّی بْنُ مَنْصُوْرٍ الرَّازِیّ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَوَانَۃَ ، عَنْ اِسْرَائِیْلَ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ فَذَکَرَ بِاِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ۔فَانْتَفٰی بِذٰلِکَ أَنْ یَکُوْنَ ، عِنْدَ أَبِیْ عَوَانَۃَ فِیْ ہٰذَا، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، شَیْء ٌ .فَاِنْ قَالُوْا : فَاِنَّہٗ قَدْ رَوَاہُ قَیْسُ بْنُ الرَّبِیْعِ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ أَیْضًا ، کَمَا رَوَاہُ اِسْرَائِیْلُ وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٤١٧٩: معلی بن منصور رازی نے ابو عوانہ سے انھوں نے اسرائیل عن ابی اسحاق سے انھوں نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اب اس بات کی تو نفی ہوگئی کہ ابو عوانہ کے پاس ابو اسحاق کی طرف سے کسی اور سند سے کوئی چیز پہنچی ہو۔ اسرائیل نے فقط ابو اسحاق سے یہ روایت نقل نہیں کی بلکہ قیس بن ربیع نے بھی بالکل روایت اسرائیل کی طرح نقل کی ہے۔
نوٹ : پس اب اس بات کی تو نفی ہوگئی کہ ابو عوانہ کے پاس ابو اسحاق کی طرف سے کسی اور سند سے کوئی چیز پہنچی ہو۔
اعتراض ثالث :
اسرائیل نے فقط ابو اسحاق سے یہ روایت نقل نہیں کی بلکہ قیس بن ربیع نے بھی بالکل روایت اسرائیل کی طرح نقل کی ہے۔