۴۲۰۶: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ بْنِ ہِشَامٍ الرُّعَیْنِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِیْ حَازِمٍ ، عَنْ سَہْلٍ ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ۔قَالَ اللَّیْثُ : لَا یَجُوْزُ ہَذَا بَعْدَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَنْ یُزَوَّجَ بِالْقُرْآنِ. قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی أَنَّ التَّزْوِیْجَ عَلَی سُوْرَۃٍ مِنَ الْقُرْآنِ مُسَمَّاۃٍ ، جَائِزٌ ، وَقَالُوْا مَعْنٰی ذٰلِکَ ، عَلٰی أَنْ یُعَلِّمَہَا تِلْکَ السُّوْرَۃَ ، وَاحْتَجُّوْا فِی ذٰلِکَ بِہٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : مَنْ تَزَوَّجَ عَلٰی ذٰلِکَ ، فَالنِّکَاحُ جَائِزٌ ، وَہُوَ فِیْ حُکْمِ مَنْ لَمْ یُسَمِّ مَہْرًا ، فَلَہَا مَہْرُ مِثْلِہَا ، اِنْ دَخَلَ بِہَا ، أَوْ مَاتَا ، أَوْ مَاتَ أَحَدُہُمَا ، وَاِنْ طَلَّقَہَا قَبْلَ أَنْ یَدْخُلَ بِہَا ، فَلَہَا الْمُتْعَۃُ .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، أَنَّ الَّذِیْ فِیْ حَدِیْثِ سَہْلٍ ، مِنْ قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ زَوَّجْتُک عَلٰی مَا مَعَک مِنَ الْقُرْآنِ أَنَّ حَمْلَ ذٰلِکَ عَلَی الظَّاہِرِ ، وَکَذٰلِکَ مَذْہَبُ أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی فِیْ غَیْرِ ہٰذَا، فَذٰلِکَ عَلَی السُّوْرَۃِ ، لَا عَلَی تَعْلِیْمِہَا ، وَاِنْ کَانَ ذٰلِکَ عَلَی السُّوْرَۃِ ، فَہُوَ عَلٰی حُرْمَتِہَا ، وَلَیْسَتْ مِنَ الْمَہْرِ فِیْ شَیْئٍ ، کَمَا تَزَوَّجَ أَبُو طَلْحَۃَ، أُمَّ سُلَیْمٍ عَلَی اِسْلَامِہٖ .
٤٢٠٦: ہشام بن سعد نے ابو حازم سے انھوں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ امام لیث (رح) کہتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد قرآن مجید کے بدلے نکاح کرنا جائز نہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ قرآن مجید کی کسی مقررہ سورت کے بدلے نکاح کرنا جائز ہے وہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو وہ سورت سکھائے انھوں نے مذکورہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ مگر دوسرے حضرات نے اس سلسلے میں ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص قرآن مجید کے بدلے نکاح کرے تو نکاح جائز ہوجائے گا لیکن اس کا حکم اس شخص کا ہے جس نے مہر مقرر نہ کیا ہو۔ تو اس عورت کے لیے مہر مثلی ہے اگر اس نے اس سے جماع کرلیا یا دونوں مرگئے یا ان میں سے ایک کا انتقال ہوگیا اور اگر اس نے جماع سے پہلے طلاق دے دی تو اس عورت کے لیے کپڑوں کا جوڑا بطور متعہ ہوگا۔ دوسرے فریق کی فریق اوّل کے خلاف حجت یہ ہے کہ حضرت سہل (رض) کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے تیرا نکاح قرآن پاک کے بدلے کیا جو تجھے یاد ہے۔ اگر اس کو ظاہر پر محمول کیا جائے جیسا کہ فریق اوّل کا اس کے علاوہ میں قول ہے تو پھر اس سے سورة مراد ہوگی اس کی تعلیم مراد نہ ہوگی اور اگر اس سے سورت مراد لی جائے تو پھر اس کی تعظیم مقصود ہے اس کا مہر ہونا مراد نہیں جیسا کہ حضرت ابو طلحہ (رض) نے حضرت ام سلیم (رض) سے ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے نکاح کیا (مطلب یہ ہوا کہ چونکہ تمہیں قرآن پاک یاد ہے پس اس فضیلت کی وجہ سے تیرا نکاح اس سے کرتا ہوں) روایت ابو طلحہ (رض) یہ ہے :
MU امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ قرآن مجید کی کسی مقررہ سورت کے بدلے نکاح کرنا جائز ہے وہ فرماتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس کو وہ سورت سکھائے انھوں نے مذکورہ بالا روایت سے استدلال کیا ہے۔ مگر دوسرے حضرات نے اس سلسلے میں ان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص قرآن مجید کے بدلے نکاح کرے تو نکاح جائز ہوجائے گا لیکن اس کا حکم وہی ہے کہ جس نے مہر مقرر نہ کیا ہو۔ تو اس عورت کے لیے مہر مثلی ہے اگر اس نے اس سے جماع کرلیا یا دونوں مرگئے یا ان میں سے ایک کا انتقال ہوگیا اور اگر اس نے جماع سے پہلے طلاق دے دی تو اس عورت کے لیے کپڑوں کا جوڑا بطور متعہ ہوگا۔
فریق ثانی کی دلیل : فریق اوّل کے خلاف حجت یہ ہے کہ حضرت سہل (رض) کی روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں نے تیرا نکاح قرآن پاک کے بدلے کیا جو تجھے یاد ہے۔ اگر اس کو ظاہر پر محمول کیا جائے جیسا کہ فریق اوّل کا اس کے علاوہ میں قول ہے تو پھر اس سے سورة مراد ہوگی اس کی تعلیم مراد نہ ہوگی اور اگر اس سے سورت مراد لی جائے تو پھر اس کی تعظیم مقصود ہے اس کا مہر ہونا مراد نہیں جیسا کہ حضرت ابو طلحہ (رض) نے حضرت ام سلیم (رض) سے ان کے مسلمان ہونے کی وجہ سے نکاح کیا (مطلب یہ ہوا کہ چونکہ تمہیں قرآن پاک یاد ہے پس اس فضیلت کی وجہ سے تیرا نکاح اس سے کرتا ہوں) ۔