hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4207

.

الطحاوي

4207
Al Tahawi
۴۲۰۷: حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا الْخَطَّابُ بْنُ عُثْمَانَ الْفَوْدِیُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا اِسْمَاعِیْلُ بْنُ عَیَّاشٍ ، عَنْ عُتْبَۃَ بْنِ حُمَیْدٍ ، عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ أَبَا طَلْحَۃَ تَزَوَّجَ أُمَّ سُلَیْمٍ عَلَی اِسْلَامِہِ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَحَسَّنَہُ .فَلَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ الْاِسْلَامُ مَہْرًا فِی الْحَقِیْقَۃِ ، وَاِنَّمَا مَعْنَیْ تَزَوَّجَہَا عَلَی اِسْلَامِہٖ، أَیْ تَزَوَّجَہَا لِاِسْلَامِہٖ، وَقَدْ زَادَ بَعْضُہُمْ فِیْ حَدِیْثِ أَنَسٍ ہَذَا .قَالَ أَنَسٌ وَاللّٰہِ مَا کَانَ لَہَا مَہْرًا غَیْرُہُ .فَمَعْنٰی ذٰلِکَ - عِنْدَنَا - وَاللّٰہُ أَعْلَمُ ، أَیْ : مَا أَرَادَتْ مِنْہُ مَہْرًا غَیْرَہٗ، فَکَذٰلِکَ مَعْنَیْ حَدِیْثِ سَہْلٍ فِی الْمَرْأَۃِ الَّتِیْ ذٰکَرْنَا .وَمِنَ الْحُجَّۃِ لِأَہْلِ ہٰذِہِ الْمَقَالَۃِ ، أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ نَہَی أَنْ یُؤْکَلَ بِالْقُرْآنِ ، أَوْ یُتَعَوَّضَ بِہٖ شَیْء ٌ مِنْ أُمُوْرِ الدُّنْیَا .
٤٢٠٧: ابوبکر بن عبیداللہ بن انس نے انس بن مالک (رض) سے نقل کیا کہ حضرت ابو طلحہ (رض) نے حضرت ام سلیم (رض) سے ان کے اسلام کی وجہ سے نکاح کیا تو میں نے یہ بات جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ذکر کی تو آپ نے اس کی تحسین فرمائی۔ پس یہ اسلام حقیقت میں مہر نہ تھا۔ تزوجہا علی اسلامہ کا مطلب یہ ہے کہ ام سلیم سے ابو طلحہ کی شادی ان کے اسلام کی وجہ سے ہوئی بعض محدثین نے اس روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ انس (رض) کہتے ہیں اللہ کی قسم ام سلیم کا اس کے علاوہ کوئی مہر نہ تھا۔ تو اب ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ام سلیم نے اس کے علاوہ ان سے کسی مہر کا مطالبہ ہی نہ کیا واللہ اعلم۔ اسی طرح سہل والی روایت میں جس عورت کا تذکرہ ہوا اس روایت کا مطلب بھی یہی ہے۔ فریق ثانی کا کہنا یہ ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن مجید کے بدلے کھانے اور اس کا عوض دنیوی مفاد کی صورت میں حاصل کرنے سے منع کیا ہے جیسا کہ اس روایت میں مذکور ہے۔
تخریج : مسند احمد ٣؍١٠٦‘ ١٨١۔
پس یہ اسلام حقیقت میں مہر نہ تھا۔ تزوجہا علی اسلامہ کا مطلب یہ ہے کہ ام سلیم سے ابو طلحہ کی شادی ان کے اسلام کی وجہ سے ہوئی بعض محدثین نے اس روایت میں یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ انس (رض) کہتے ہیں اللہ کی قسم ام سلیم کا اس کے علاوہ کوئی مہر نہ تھا۔ تو اب ہمارے ہاں اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ام سلیم نے اس کے علاوہ ان سے کسی مہر کا مطالبہ ہی نہ کیا واللہ اعلم۔ اسی طرح سہل والی روایت میں جس عورت کا تذکرہ ہوا اس روایت کا مطلب بھی یہی ہے۔