hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4220

.

الطحاوي

4220
Al Tahawi
۴۲۲۰: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا أُمَیَّۃُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ زُرَیْعٍ ، عَنْ رَوْحِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ حَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، وَسَلْمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَتَاہُمْ فَأَذِنَ لَہُمْ فِی الْمُتْعَۃِ .قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ اِلٰی ہٰذِہِ الْآثَارِ فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ أَنْ یَتَمَتَّعَ الرَّجُلُ مِنَ الْمَرْأَۃِ أَیَّامًا مَعْلُوْمَۃً ، بِشَیْئٍ مَعْلُوْمٍ فَاِذَا مَضَتْ تِلْکَ الْأَیَّامُ ، حَرُمَتْ عَلَیْہِ، لَا بِطَلَاقٍ .وَلٰـکِنْ بِاِنْقِضَائِ الْمُدَّۃِ الَّتِیْ کَانَا تَعَاقَدَا عَلَی الْمُتْعَۃِ فِیْہَا ، وَلَا یَتَوَارَثَانِ بِذٰلِکَ فِیْ قَوْلِہِمْ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا یَجُوْزُ ہٰذَا النِّکَاحُ. وَاحْتَجُّوْا بِأَنَّ الْآثَارَ الَّتِی احْتَجَّ بِہَا عَلَیْہِمْ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی قَدْ کَانَتْ ، ثُمَّ نُسِخَتْ بَعْدَ ذٰلِکَ ، وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ نَہٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ .وَذَکَرُوْا مَا قَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ نَہْیِہٖ عَنْہَا مِمَّا لَمْ یُذْکَرْ فِیْہَا النُّسَخُ ۔
٤٢٢٠: جابر بن عبداللہ نے سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت کی ہے کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے ہاں تشریف لائے اور آپ نے متعہ کی اجازت دی۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض لوگوں نے ان آثار سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کچھ حرج نہیں کہ مقررہ دنوں کے لیے کسی معلوم چیز کے بدلے میں کوئی مرد کسی عورت سے متعہ کرے جب وہ دن گزر جائیں گے تو وہ عورت بلاطلاق اس کے لیے حرام ہوجائے گی جس کی وجہ اختتام عدت ہوگی جس پر دونوں کا معاہدہ ہوا تھا وہ ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔ دوسروں کا قول یہ ہے کہ یہ حکم پہلے تھا پھر دوسرے منسوخ شدہ احکام کی طرح منسوخ ہوا اور متعہ کی ممانعت کردی گئی اور اس سلسلہ میں انھوں نے ان روایات کا ذکر کیا ہے جن میں ممانعت متعہ وارد ہے اس ممانعت کے نسخ کی کوئی روایت نہیں۔ دوسرے حضرات کہتے ہیں متعہ جائز نہیں اس کا حکم منسوخ ہوچکا جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات اس کی دلیل ہیں۔
تخریج : مسلم فی النکاح ١٤؍١٩‘ ٢٠‘ نسائی فی النکاح باب ٧١‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ٤٤‘ مسند احمد ٣؍٤٠٥۔
امام طحاوی (رح) کا قول : بعض لوگوں نے ان آثار سے استدلال کرتے ہوئے کہا کہ اس میں کچھ حرج نہیں کہ مقررہ دنوں کے لیے کسی معلوم چیز کے بدلے میں کوئی مرد کسی عورت سے متعہ کرے جب وہ دن گزر جائیں گے تو وہ عورت بلاطلاق اس کے لیے حرام ہوجائے گی جس کی وجہ اس کا مدت اختتام عدت ہوگا جس پر دونوں کا معاہدہ ہوا تھا وہ ایک دوسرے کے وارث نہ ہوں گے۔
دوسروں کا قول یہ ہے کہ یہ حکم پہلے تھا پھر دوسرے منسوخ شدہ احکام کی طرح منسوخ ہوا اور متعہ کی ممانعت کردی گئی اور انھوں نے اس سلسلہ میں انھوں نے ان روایات کا ذکر کیا ہے جن میں ممانعت متعہ وارد ہے اس ممانعت کے نسخ کی کوئی روایت نہیں۔
فریق ثانی کا مؤقف اور مستدل روایات : متعہ جائز نہیں اس کا حکم منسوخ ہوچکا جیسا کہ مندرجہ ذیل روایات اس کی دلیل ہیں۔