hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4219

.

الطحاوي

4219
Al Tahawi
۴۲۱۹: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُوْ بِشْرٍ عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ الزُّبَیْرِ یَخْطُبُ وَہُوَ یُعَرِّضُ بِابْنِ عَبَّاسٍ ، یَعِیْبُ عَلَیْہِ قَوْلَہُ فِی الْمُتْعَۃِ .فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : یَسْأَلُ أُمَّہٗ اِنْ کَانَ صَادِقًا ، فَسَأَلَہَا ، فَقَالَتْ : صَدَقَ ابْنُ عَبَّاسٍ ، قَدْ کَانَ ذٰلِکَ .فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا لَوْ شِئْتُ لَسَمَّیْتُ رِجَالًا مِنْ قُرَیْشٍ وُلِدُوْا فِیْہَا . متعہ کے متعلق دو فریق ہیں: نمبر1: حضرت ابن عباسi کے ہاں متعہ درست ہے منسوخ نہیں ہوا۔ نمبر2: دوسرا جمہور صحابہ کرام اور جمہور فقہاء و محدثین متعہ کے نسخ کے قائل ہیں اور اب اسے حرام و ممنوع قرار دیتے ہیں۔ فریق اوّل کا مؤقف اور مستدل روایات مندرجہ ذیل ہیں۔متعہ کا حکم منسوخ نہیں ہوا جیسا ان روایات میں ہے۔
٤٢١٩: سعید بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) کو سنا کہ وہ خطبہ دیتے ہوئے ابن عباس (رض) پر متعہ کے متعلق تعریض کرتے تھے ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر وہ سچے ہیں تو وہ اپنی والدہ سے پوچھ لیں تو عبداللہ کی والدہ نے پوچھنے پر فرمایا ابن عباس (رض) سچ کہتے ہیں یہ حکم تھا۔ پھر ابن عباس (رض) نے فرمایا اگر میں چاہوں تو قریش کے ان چند افراد کے نام بتاسکتا ہوں جن کی ولادت اس متعہ سے ہوئی۔