hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4225

.

الطحاوي

4225
Al Tahawi
۴۲۲۵: فَاِذَا یُوْنُسُ قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ اللَّیْثِیُّ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیْزِ عَنِ الرَّبِیْعِ بْنِ سَبْرَۃَ الْجُہَنِیِّ ، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلٰی مَکَّۃَ فِیْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ ، فَأَذِنَ لَنَا فِی الْمُتْعَۃِ .فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَصَاحِبٌ لِیْ اِلَی امْرَأَۃٍ مِنْ بَنِیْ عَامِرٍ ، کَأَنَّہَا بَکْرَۃٌ عَنَطْنَطَۃٌ ، فَعَرَضْنَا عَلَیْہَا أَنْفُسَنَا .فَقَالَتْ : مَا تُعْطِیْنِیْ؟ فَقُلْتُ :رِدَائِی ، وَقَالَ : صَاحِبِی : رِدَائَ یْنِ ، وَکَانَ رِدَائُ صَاحِبِیْ أَجْوَدَ مِنْ رِدَائِی وَکُنْتُ أَشَبَّ مِنْہُ اِذَا نَظَرَتْ اِلَیْ رِدَائَیْ صَاحِبِیْ أَعْجَبَہَا ، وَاِذَا نَظَرَتْ اِلَیَّ أَعْجَبْتُہَا ، فَقَالَتْ : أَنْتَ وَرِدَاؤُک تَکْفِینِیْ فَمَکَثْتُ مَعَہَا ثَلَاثَۃَ أَیَّامٍ .ثُمَّ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ کَانَ عِنْدَہُ شَیْء ٌ مِنْ ہٰذِہِ النِّسَائِ اللَّاتِیْ یُتَمَتَّعُ بِہِنَّ ، فَلْیُخَلِّ سَبِیْلَہَا .
٤٢٢٥: عبدالعزیز بن عمر بن عبدالعزیز نے ربیع بن سبرہ جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت نقل کی ہے کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع کے لیے مکہ کی طرف روانہ ہوئے تو آپ نے ہمیں متعہ کی اجازت مرحمت فرمائی چنانچہ میں اور میرا ساتھی بنو عامر کی ایک عورت کے پاس گئے گویا کہ وہ جوان موٹی ہے ہم نے اپنے کو اس کے سامنے پیش کیا اس نے کہا مجھے کیا دو گے ؟ میں نے کہا میں اپنی چادر دوں گا اور میرے دوست نے کہا دو چادریں دوں گا میرے ساتھی کی چادر میری چادر سے عمدہ تھی اور میں اس کے مقابلہ میں زیادہ جوان تھا جب اس عورت نے میرے ساتھی کی چادروں کو دیکھا تو اسے پسند کیا اور جب مجھے دیکھا تو میں اس کو پسند آگیا اس نے کہا تو اور تیری چادر مجھے کافی ہے۔ چنانچہ میں اس کے پاس تین دن ٹھہرا پھر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس کسی کے پاس متعہ والی عورتیں ہوں وہ ان کا راستہ چھوڑ دے یعنی ان سے الگ ہوجائے۔
تخریج : مسلم فی النکاح ١٩‘ نسائی فی النکاح باب ٧١‘ مسند احمد ٣؍٤٠٥۔