۴۲۳۶: حَدَّثَنَا صَالِحٌ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : اِذَا تَزَوَّجَ الْبِکْرَ عَلَی الثَّیِّبِ أَقَامَ عِنْدَہَا سَبْعًا ، ثُمَّ قَسَمَ ، وَاِذَا تَزَوَّجَ الثَّیِّبَ أَقَامَ عِنْدَہَا ثَلَاثًا .قَالَ خَالِدٌ فِیْ حَدِیْثِہٖ: وَلَوْ قُلْتُ اِنَّہٗ قَدْ رَفَعَ الْحَدِیْثَ لَصَدَّقْتُ ، وَلٰـکِنَّہٗ قَالَ : السُّنَّۃُ کَذٰلِکَ .
٤٢٣٦: ابو قلابہ نے انس (رض) سے روایت کی ہے کہ جب ثیبہ کے بعد بکرہ سے نکاح کرے تو اس کے ہاں سات دن ٹھہرے پھر باری مقرر کرے اور جب ثیبہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین دن ٹھہرے۔
خالد راوی نے اپنی روایت میں فرمایا کہ اگر میں کہوں کہ حضرت انس (رض) نے اس کو مرفوعاً روایت کیا ہے تو یہ یقیناً میں سچ بولنے والا ہوگا لیکن انھوں نے فرمایا کہ سنت طریقہ اسی طرح ہے۔
تخریج : بخاری فی النکاح باب ١٠٠؍١٠١‘ مسلم فی الرضاع روایت ٤٣‘ ابو داؤد فی النکاح باب ٣٤‘ ترمذی فی النکاح باب ٤١‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ٢٦‘ دارمی فی النکاح ٣٧‘ موطا مالک فی النکاح ١٥‘ مسند احمد ٢؍١٧٨۔