۴۲۳۵: حَدَّثَنَا یُوْنُسُ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ أَیُّوْبَ ، عَنْ أَبِیْ قِلَابَۃَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : لِلْبِکْرِ سَبْعٌ ، وَلِلثَّیِّبِ ثَلَاثٌ .
٤٢٣٥: حضرت ابو قلابہ (رح) نے انس (رض) سے نقل کیا بکارہ عورت کے لیے سات دن اور ثیبہ کے لیے تین دن ہیں۔
اس سلسلہ میں کل دو معروف مذاہب بنتے ہیں :
نمبر 1: ثیبہ پر جب باکرہ سے نکاح کرے تو پہلے سات یا تین ایام اس کے لیے مخصوص کرے آئندہ سب میں برابری کرے اس کو ائمہ ثلاثہ اور ابراہیم نخعی ‘ سفیان (رح) وغیرہ نے اختیار کیا۔
نمبر 2: نئی اور پرانی بیویوں میں برابر اقامت اختیار کرے یہ ائمہ احناف ‘ حماد (رح) وغیرہ کا قول ہے۔
فریق اوّل : باکرہ سے شادی کرنے پر اس کے پاس زیادہ دن گزارنے ہوں گے پھر آئندہ باری ایام کے لحاظ سے ہوگی کسی کو دوسری پر برتری نہ ہوگی دلیل یہ روایات ہیں۔