۴۲۵۵: حَدَّثَنَا رَبِیْعُ الْجِیْزِیِّ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ زُرْعَۃَ ، قَالَ : قَالَ أَخْبَرَنَا حَیْوَۃُ ، عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ أَنَّہٗ سَمِعَ عُرْوَۃَ یُحَدِّثُ عَنْ عَائِشَۃَ ، عَنْ جُدَامَۃَ ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مِثْلَہٗ۔قَالَ أَبُوْجَعْفَرٍ : فَکَرِہَ قَوْمٌ الْعَزْلَ لِہٰذَا الْأَثَرِ الْمَرْوِیِّ فِیْ کَرَاہَۃِ ذٰلِکَ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَلَمْ یَرَوْا بِہٖ بَأْسًا اِذَا أَذِنَتِ الْحُرَّۃُ لِزَوْجِہَا فِیْہِ، فَاِنْ مَنَعَتْہُ مِنْ ذٰلِکَ لَمْ یَسَعْہُ أَنْ یَعْزِلَ عَنْہَا .وَقَدْ خَالَفَہُمْ فِیْ ہٰذَا قَوْمٌ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا لَہٗ : أَنْ یَعْزِلَ عَنْہَا ، اِنْ شَائَ تْ ، أَوْ أَبَتْ .وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ فِیْ ہٰذَا - عِنْدَنَا - أَصَحُّ الْقَوْلَیْنِ ، وَذٰلِکَ أَنَّا رَأَیْنَا الزَّوْجَ لَہٗ أَنْ یَأْخُذَ الْمَرْأَۃَ بِأَنْ یُجَامِعَہَا وَاِنْ کَرِہَتْ ذٰلِکَ ، وَلَہٗ أَنْ یَأْخُذَہَا بِأَنْ یُفْضِیَ اِلَیْہَا وَلَا یَعْزِلَ عَنْہَا .فَکَانَ لَہٗ أَنْ یَأْخُذَہَا بِأَنْ یُفْضِیَ اِلَیْہَا فِیْ جِمَاعِہٖ اِیَّاہَا ، کَمَا یَأْخُذُہَا بِأَنْ یُجَامِعَہَا .وَکَانَ لِلْمَرْأَۃِ أَنْ تَأْخُذَ زَوْجَہَا بِأَنْ یُجَامِعَہَا ، فَکَانَ لَہَا أَنْ تَأْخُذَہٗ بِأَنْ یُفْضِیَ اِلَیْہَا ، کَمَا لَہٗ أَنْ یَأْخُذَہَا بِأَنْ یُجَامِعَہَا وَأَنْ یُفْضِیَ اِلَیْہَا وَکَانَ حَقُّ کُلِّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا فِیْ ذٰلِکَ عَلٰی صَاحِبِہٖ سَوَائً ، وَکَانَ مِنْ حَقِّہِ أَنْ یُفْضِیَ اِلَیْہَا فِیْ جِمَاعِہَا اِنْ أَحَبَّتْ وَاِنْ ہَرَّتْ أَیْ کَرِہَتْ ہِیَ ذٰلِکَ .فَالنَّظْرُ - عَلٰی مَا ذَکَرْنَا - أَنْ یَکُوْنَ کَذٰلِکَ مِنْ حَقِّہَا ہِیَ أَیْضًا عَلَیْہِ، أَنْ یُفْضِیَ اِلَیْہَا فِیْ جِمَاعِہِ اِیَّاہَا اِنْ أَحَبَّ ذٰلِکَ وَاِنْ کَرِہَ .وَہٰذَا ہُوَ النَّظْرُ فِیْ ہٰذَا ، وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .وَلِلْمَوْلَی فِیْ قَوْلِہِمْ جَمِیْعًا عِنْدَ مَنْ کَرِہَ الْعَزْلَ أَصْلًا ، أَنْ یُجَامِعَ أَمَتَہُ وَیَعْزِلَ عَنْہَا فِیْ جِمَاعِہٖ، وَلَا یَسْتَأْذِنَہَا فِیْ ذٰلِکَ وَاِنْ کَانَتْ لِرَجُلٍ زَوْجَۃٌ مَمْلُوْکَۃٌ ، فَأَرَادَتْ أَنْ یَعْزِلَ عَنْہَا ، فَاِنَّ أَبَا حَنِیْفَۃَ ، وَأَبَا یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدًا ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ فِیْ ذٰلِکَ - فِیْمَا حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ مَعْبَدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ عَنْ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ - أَنَّ الْاِذْنَ فِیْ ذٰلِکَ اِلَی مَوْلَی الْأَمَۃِ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ خِلَافُ ہٰذَا الْقَوْلِ .
٤٢٥٥: عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے انھوں نے جد امہ سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ بعض لوگوں نے اس اثر کی وجہ سے عزل کو مکروہ قرار دیا ہے۔ دوسری جماعت کا قول یہ ہے کہ اس میں کچھ کراہت نہیں جبکہ حرہ اپنے خاوند کو اجازت دے اور اگر عورت اس سے منع کرے تو وہ عزل نہیں کرسکتا۔ عورت چاہے یا نہ چاہے بہرصورت خاوند کو عزل کا حق حاصل ہے۔ ہمارے ہاں قول اوّل زیادہ درست ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ خاوند کو حق حاصل ہے کہ وہ جماع کے لیے زبردستی کرے۔ اگرچہ عورت اس بات کو ناپسند کرے اور خاوند کو یہ بھی اختیار ہے کہ اسے انزال کے لیے زبردستی کرے اور اس سے انزال کے وقت الگ نہ ہو تو جب خاوند کو جماع کی صورت میں جبراً انزال کا حق ہے جس طرح کہ وہ جماع کے سلسلہ میں اسے قابو کرسکتا ہے اور عورت بھی جماع کے لیے خاوند کو زبردستی پکڑ سکتی ہے اس کو یہ بھی اختیار ہے کہ خاوند کو اپنے (اندر) انزال پر مجبور کرے جیسا کہ اس کو جماع پر مجبور کرسکتی ہے جب دونوں کا حق ایک دوسرے پر برابر ہے خاوند کا حق ہے کہ وہ جماع کی صورت میں عورت تک پہنچے (قربت کرے) خواہ عورت پسند کرے یا ناپسند۔ گزشتہ بات پر قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ عورت کا بھی اسی طرح حق ہے کہ خاوند جماع کرتے ہوئے اس تک پہنچے (رحم میں منی پہنچائے) مرد خواہ اس بات کو پسند کرے یا ناپسند۔ اس سلسلہ میں قیاس یہی ہے اور امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا بھی یہی قول ہے۔ لونڈی کے سلسلہ میں حکم : مالک کو اپنی لونڈی کے سلسلہ میں تمام ائمہ کے ہاں عزل کرنا درست ہے جو حرہ کے متعلق عزل کو مکروہ قرار دیتے ہیں یہاں وہ بھی درست قرار دیتے ہیں اس میں لونڈی سے اجازت قطعاً ضروری نہیں۔ اگر کسی شخص کی بیوی کسی دوسرے کی مملوکہ ہو اور وہ خاوند اس سے عزل کرنا چاہتا ہو تو اس سلسلہ میں امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف اور محمد (رح) کا قول علی بن حسن کی روایت کے مطابق یہ ہے کہ امام ابو یوسف ‘ ابوحنیفہ (رح) آقا سے اذن کو ضروری قرار دیتے ہیں اور امام ابو یوسف (رح) سے اس کے خلاف قول بھی منقول ہے۔ ملاحظہ ہو۔