۴۲۵۶: حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ شُجَاعٍ عَنِ الْحَسَنِ بْنِ زِیَادٍ ، عَنْ أَبِیْ یُوْسُفَ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ قَالَ : الْاِذْنُ فِیْ ذٰلِکَ اِلَی الْأَمَۃِ لَا اِلَی مَوْلَاہَا .قَالَ ابْنُ أَبِیْ عِمْرَانَ : ہَذَا ہُوَ النَّظْرُ عَلٰی أُصُوْلِ مَا بُنِیَ عَلَیْہِ ہٰذَا الْبَابُ ، لِأَنَّہَا لَوْ أَبَاحَتْ لِزَوْجِہَا تَرْکَ جِمَاعِہَا ، کَانَ مِنْ ذٰلِکَ فِیْ سَعَۃٍ ، وَلَمْ یَکُنْ لِمَوْلَاہَا أَنْ یَأْخُذَ زَوْجَہَا بِأَنْ یُجَامِعَہَا .فَلَمَّا کَانَ الْجِمَاعُ الْوَاجِبُ عَلَی زَوْجِہَا اِلَیْہَا ، أَخَذَ زَوْجُہَا بِہٖ ، لَا اِلَی مَوْلَاہَا ، کَانَ ذٰلِکَ الْاِفْضَائُ فِیْ ذٰلِکَ الْجِمَاعِ الْأَخْذُ بِہٖ اِلَیْہَا ، لَا اِلَی مَوْلَاہَا ، فَہٰذَا ہُوَ النَّظْرُ فِیْ ہٰذَا .وَأَنْکَرَ ہٰؤُلَائِ جَمِیْعًا ، الَّذِیْنَ أَبَاحُوْا الْعَزْلَ ، مَا فِیْ حَدِیْثِ جُدَامَۃَ مِمَّا رَوَتْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ قَوْلِہٖ فِیْہِ اِنَّہٗ الْوَأْدُ الْخَفِیُّ وَرَوَوْا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْکَارَ ذٰلِکَ الْقَوْلِ عَلَی مَنْ قَالَہٗ۔وَذَکَرُوْا فِیْ ذٰلِکَ ،
٤٢٥٦: حسن بن زیادہ نے اب ویوسف (رح) سے نقل کیا کہ اس سلسلہ میں لونڈی کو اختیار ہوگا آقا کو اختیار نہ ہوگا۔ ابن ابی عمران کہتے ہیں کہ جن اصولوں پر اس باب کی بنیاد ہے اس میں نظر کا تقاضا یہی ہے کیونکہ اگر اس نے اپنے خاوند کے لیے ترک جماع کو مباح کردیا تو یہ اس کو اختیار ہے اس کے مالک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اس کے خاوند کو اس کے جماع پر مجبور کرے۔ پس جبکہ جماع واجب کا اختیار لونڈی کو ہے کہ وہ اپنے خاوند کو زبردستی اس کے لیے مجبور کرسکتی ہے تو آقا کو اختیار نہیں کہ س جماع میں انزال کرانے کے لیے خاوند کو پکڑے اور مجبور کرنے کا اختیار لونڈی کو ہے اس کے مالک کو نہیں۔ تقاضائے نظر تو اس سلسلہ میں یہی ہے ان تمام حضرات نے جنہوں نے عزل کو جائز قرار دیا انھوں نے حضرت جدامہ (رض) والی روایت کے الفاظ جو انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کئے ہیں کہ یہ مخفی زندہ درگور کرنا ہے اس قول کی صحت سے انکار کیا ہے اور اس سلسلہ میں یہ روایت نقل کی ہے۔