۴۲۶: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ قَالَ : ثَنَا الْفَرْوِیُّ إِسْحَاقُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ، فَذَکَرَ مِثْلَہٗ بِإِسْنَادِہٖ قِیْلَ لَہُمْ : أَنْتُمْ لَا تُسْرِعُوْنَ خَصْمَکُمْ أَنْ یَحْتَجَّ عَلَیْکُمْ بِمِثْلِ عُمَرَ بْنِ شُرَیْحٍ، فَکَیْفَ تَحْتَجُّوْنَ بِہٖ أَنْتُمْ عَلَیْہِ؟ .ثُمَّ ذٰلِکَ أَیْضًا - فِیْ نَفْسِہٖ مُنْکَرٌ لِأَنَّ عُرْوَۃَ، لَمَّا أَخْبَرَہٗ مَرْوَانُ عَنْ بُسْرَۃَ بِمَا أَخْبَرَہٗ بِہٖ مِنْ ذٰلِکَ، لَمْ یَکُنْ عَرَفَہٗ قَبْلَ ذٰلِکَ، لَا عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا، وَلَا عَنْ غَیْرِہَا .فَإِنِ احْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ،
٤٢٦: ابن ابی داؤد نے الفروی اسحاق بن محمد سے اور انھوں نے ابراہیم بن اسماعیل سے اپنی اسناد سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ ان سے عرض کیا جائے گا کہ تم فریق مخالف ہو عمر بن شریح جیسے راوی کی روایت سے استدلال کی اجازت نہیں دیتے تو خود اس کو ان کے خلاف دلیل میں کس طرح پیش کرو گے ؟ پھر ذاتی لحاظ سے یہ روایت منکر ہے کیونکہ عروہ کو جب مروان نے حضرت بسرہ والی روایت سنائی تو عروہ نے اس کو نہ جانا نہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے اور نہ ہی کسی غیر سے۔ پھر اگر وہ اس روایت سے استدلال کریں۔
الجواب : اس سند میں عمرو بن شریح خود ایسا راوی ہے جو جناب کے ہاں قابل احتجاج نہیں تو ہمارے متعلق اس کا پیش کرنا درست ہوا۔
نمبر ٢: جب یہ روایت سرے سے خود منکر ہے مروان کے سامنے سب اس کے سننے کا انکار کر رہے ہیں نہ انھوں نے حضرت عائشہ (رض) سے سنی اور نہ کسی اور سے عروہ کا انکار اس کی مذکورہ بالا اسناد سے منکر ہونے کی کافی دلیل ہے۔
ایک اشکال جدید کا اضافہ :
ہم اس روایت کو ایک ایسی سند سے پیش کرتے ہیں جس میں عروہ نہیں ہے اور سند بھی درست ہے پس روایت کو درست تسلیم کرنا ہوگا روایت یہ ہے۔