۴۲۷: بِمَا حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا دُحَیْمُ بْنُ الْیَتِیْمِ، قَالَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِیْ سَلَمَۃَ، عَنْ صَدَقَۃَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِذٰلِکَ .قِیْلَ لَہُمْ : صَدَقَۃُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ ھٰذَا - عِنْدَکُمْ ضَعِیْفٌ، فَکَیْفَ تَحْتَجُّوْنَ بِہٖ؟ وَہِشَامُ بْنُ زَیْدٍ، فَلَیْسَ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ الَّذِیْنَ یَثْبُتُ بِرِوَایَتِہِمْ مِثْلُ ھٰذَا .وَإِنِ احْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا۔
٤٢٧: یزید بن سنان نے دحیم بن الیتیم سے اور انھوں نے عمرو بن ابی سلمہ سے اور انھوں نے صدقہ بن عبداللہ سے اور اس نے ہشام بن زید سے اور اس نے نافع عن ابن عمر (رض) عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ روایت اسی طرح نقل کی ہے۔ ان کو جواب دیا جائے گا کہ یہ صدقہ بن عبداللہ تمہارے ہاں بھی ضعیف ہے۔ اس کو ہمارے خلاف کیسے دلیل بناتے ہو اور ہشام بن زبیر ان علم والوں میں سے نہیں جن کی روایت سے اس قسم کی بات ثابت ہو سکے۔ اگر وہ اس روایت کو پیش کریں۔
الجواب بالصواب :
جناب نئی سند میں تو یک نہ شد دو شد والا سلسلہ ہوگیا اب تک ایک ایک راوی پر جرح چلی آرہی تھی یہاں تو صدقہ بن عبداللہ راوی تو تمہارے ہاں بھی ضعیف ہے اس کو ہمارے خلاف حجت میں پیش کرنا یقیناً زیادتی ہوگی اور ہشام بن زید ان روات میں سے نہیں جن کی روایت سے اس قسم کی منکر روایت ثابت ہو سکے۔
اشکالِ جدید :
لو اب تو ماننا پڑے گا کہ یہ روایت درست ہے کیونکہ ایک ایسی سند مل گئی جو قابل اعتراض صدقہ بن عبداللہ راوی سے مبرا ہے مسئلہ تو حل ہوگیا۔ روایت یہ ہے۔