۴۲۶۳: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ یَزِیْدَ الْمُقْرِئِ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبٍ عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِیْ حَبِیْبَۃَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُبَیْدَ بْنَ رِفَاعَۃَ الْأَنْصَارِیِّ ، قَالَ: تَذَاکَرَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْعَزْلَ ، ثُمَّ ذَکَرَ مِثْلَہُ فَتَعَجَّبَ عُمَرُ مِنْ قَوْلِہٖ ، وَقَالَ : جَزَاک اللّٰہُ خَیْرًا .فَأَخْبَرَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ لَا مَوْئُ وْدَۃَ اِلَّا مَا قَدْ نُفِخَ فِیْہِ الرُّوْحُ قَبْلَ ذٰلِکَ ، وَأَمَّا مَا لَمْ یُنْفَخْ فِیْہِ الرُّوْحُ ، فَاِنَّمَا ہُوَ مَوَاتٌ غَیْرُ مَوْئُ وْدَۃٍ .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا أَیْضًا نَظِیْرُ مَا ذَکَرْنَاہٗ، عَنْ عَلِیْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٤٢٦٣: معمر بن ابی حبیبہ سے روایت ہے کہ حضرت عبید بن رفاعہ انصاری (رض) سے میں نے سنا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب نے عزل کے متعلق باہمی مذاکرہ کیا پھر انھوں نے پہلی روایت کی طرح روایت نقل کی حضرت عمر (رض) نے علی (رض) کی بات کو بہت پسند کیا اور فرمایا جزاک اللہ تعالیٰ ۔
تو حضرت علی (رض) نے بتلایا کہ زندہ درگور وہاں ہوتا ہے جہاں پہلے سے روح پھونکی جا چکی ہو اور اس سے پہلے پہلے جب تک اس میں روح پھونکی نہیں جاتی وہ بےجان ہے زندہ درگور نہیں ہے۔
حضرت علی (رض) کے قول کے مشابہ ابن عباس (رض) کا قول بھی موجود ہے۔