hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4262

.

الطحاوي

4262
Al Tahawi
۴۲۶۲: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُکَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ مَعْمَرُ بْنُ أَبِیْ حَبِیْبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ ، قَالَ : تَذَاکَرَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ عُمَرَ الْعَزْلَ ، فَاخْتَلَفُوْا فِیْہِ .فَقَالَ عُمَرُ : قَدْ اخْتَلَفْتُمْ وَأَنْتُمْ أَہْلُ بَدْرٍ الْأَخْیَارُ ، فَکَیْفَ بِالنَّاسِ بَعْدَکُمْ ؟ اِذْ تَنَاجَیْ رَجُلَانِ فَقَالَ عُمَرُ : مَا ہٰذِہِ الْمُنَاجَاۃُ ؟ قَالَ : اِنَّ الْیَہُوْدَ تَزْعُمُ أَنَّہَا الْمَوْئُ وْدَۃُ الصُّغْرَی .فَقَالَ عَلِیٌّ : اِنَّہَا لَا تَکُوْنُ مَوْئُ وْدَۃً حَتّٰی تَمُرَّ بِالتَّارَاتِ السَّبْعِ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلَالَۃٍ مِنْ طِیْنٍ اِلٰی آخِرِ الْآیَۃِ .
٤٢٦٢: معمر بن ابی حبیبہ نے عبداللہ بن عدی بن خیار (رض) سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر (رض) کی موجودگی میں صحابہ کرام (رض) نے عزل کے مسئلہ میں باہم گفتگو کی تو ان کے درمیان اختلاف ہوا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم لوگ اختلاف کرتے ہو حالانکہ تم منتخب شدہ اہل بدر ہو تمہارے بعد والے لوگوں کا اس سلسلہ میں کیا حال ہوگا اس دوران دو آدمی باہمی سرگوشی کرنے لگے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا یہ سرگوشی کیا ہے ؟ کسی نے کہا یہود کا خیال یہ ہے کہ یہ چھوٹے قسم کا زندہ درگور کرنا ہے تو حضرت علی (رض) نے فرمایا یہ زندہ درگور کرنا نہیں یہاں تک کہ تم سات باروں سے گزر جاؤ اور آپ نے استشہاد میں یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ولقد خلقناالانسان من سلالۃ من طین سورة المؤمنون ١٢ سے آیت کے آخر تک۔ تو حضرت علی (رض) نے بتلایا کہ زندہ درگور وہاں ہوتا ہے جہاں پہلے سے روح پھونکی جا چکی ہو اور اس سے پہلے پہلے جب تک اس میں روح پھونکی نہیں جاتی وہ بےجان ہے زندہ درگور نہیں ہے۔ حضرت علی (رض) کے قول کے مشابہ ابن عباس (رض) کا قول بھی موجود ہے۔