۴۲۶۶: حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ ، قَالَ : وَأَخْبَرَنِی ابْنُ أَبِی الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِیْہِ، قَالَ : حَدَّثَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی بْنِ حِبَّانَ أَنَّ ابْنَ مُحَیْرِیْزٍ حَدَّثَہٗ أَنَّ أَبَا سَعِیْدٍ حَدَّثَہٗ أَنَّ بَعْضَ النَّاسِ کَلَّمُوْا رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ شَأْنِ الْعَزْلِ ، وَذٰلِکَ لِشَأْنِ غَزْوَۃِ بَنِی الْمُصْطَلِقِ ، فَأَصَابُوْا سَبَایَا وَکَرِہُوْا أَنْ یَلِدْنَ مِنْہُمْ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا عَلَیْکُمْ أَنْ لَا تَعْزِلُوْا ، فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ قَدَّرَ مَا ہُوَ خَالِقٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ .
٤٢٦٦: ابن محیریز نے بیان کیا کہ حضرت ابو سعید خدری (رض) نے بیان کیا کہ بعض صحابہ کرام نے عزل کے سلسلہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بات کی اور غزوہ بنو مصطلق کی وجہ سے اس کی ضرورت پیش آئی کیونکہ وہاں سے قیدی عورتیں حاصل ہوئیں تھیں انھوں نے ان عورتوں سے ہم بستر ہونا ناپسند کیا تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر تم عزل نہ کرو تو تو بھی کوئی حرج نہیں بیشک اللہ تعالیٰ نے قیامت تک جس کو پیدا کرنا ہے اس کو مقدر فرما دیا ہے۔