۴۲۹ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : ثَنَا مَعْنُ بْنُ عِیْسَی الْقَزَّازُ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِکِ، عَنِ الْمَقْبُرِیِّ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ، أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ قَالَ : (مَنْ أَفْضٰی بِیَدِہٖ إِلٰی ذَکَرِہٖ؟ لَیْسَ بَیْنَہُمَا سِتْرٌ وَلَا حِجَابٌ، فَلْیَتَوَضَّأْ) .قِیْلَ لَہُمْ : یَزِیْدُ ھٰذَا - عِنْدَکُمْ - مُنْکَرُ الْحَدِیْثِ، لَا یَسْتَوِیْ حَدِیْثُہٗ شَیْئًا فَکَیْفَ تَحْتَجُّوْنَ بِہٖ؟ .وَإِنِ احْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا۔
٤٢٩: معن بن عیسیٰ القزاز نے یزید بن عبدالملک سے اور اس نے المقبری سے اور مقبری نے حضرت ابوہریرہ عن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس طرح روایت نقل کی ہے۔ ” من افضٰی بیدہ الی ذکرہ لیس بینھما ستر ولا حجاب فلیتوضائ “ جس نے اپنا ہاتھ اپنے ذکر تک ایسی حالت میں پہنچایا کہ ان کے درمیان پردہ حائل نہ تھا اسے وضو کرنا چاہیے۔ ان کو یہ کہا جائے گا یہ یزید تمہارے ہاں منکر الحدیث ہے۔ اس کی روایت کسی کام کی نہیں پھر اس سے کیسے حجت پکڑتے ہو ؟ اگر وہ یہ روایت پیش کریں۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٣٣٣‘ بیہقی سنن کبرٰی ٢؍١٣١‘ دارقطنی فی سننہ ١؍١٤٧۔
الجواب :
روایت بالا میں تو ایسا راوی آیا ہے جو آپ کے ہاں منکرالحدیث ہے اور محدثین کے ہاں اس کی روایت ایک ذرہ بھر قیمت نہیں رکھتی چہ جائیکہ تم اس کو ہمارے خلاف حجت میں استعمال کرو۔
اشکال :
یہ روایت حضرت ابوہریرہ (رض) چھوڑتے ہوئے ہم جابر بن عبداللہ کی نئی سند والی روایت پیش کرتے ہیں اب تو تسلیم کرلو روایت یہ ہے۔