۴۲۸ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ : ثَنَا الْعَلَائُ بْنُ سُلَیْمَانَ، عَنِ الزُّہْرِیِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِیْہِ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ : (مَنْ مَسَّ فَرْجَہٗ فَلْیَتَوَضَّأْ) .قِیْلَ لَہُمْ : کَیْفَ تَحْتَجُّوْنَ بِالْعَلَائِ ھٰذَا، وَہُوَ - عِنْدَکُمْ - ضَعِیْفٌ؟ .وَإِنِ احْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا بِمَا۔
٤٢٨: عمرو بن خالد نے علاء بن سلیمان سے اور انھوں نے زہری سے اور اس نے سالم سے اور سالم نے عبداللہ بن عمر (رض) سے جناب عبداللہ نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا ” من مس فرجہ فلیتوضأ“ ۔ ان کو یہ جواب دیا جائے تم علاء کو کیسے دلیل میں پیش کرتے ہو ؟ وہ تو تمہارے ہاں بھی ضعیف ہے۔ اگر وہ یہ روایت پیش کریں۔
الجواب :
واقعتا آپ نے نئی سند سے روایت پیش فرمائی مگر یہاں پھر وہی مسئلہ پیش آگیا کہ جناب علاء بن سلیمان تو ایسا راوی ہے جو آپ کے ہاں ضعیف ہے ایسے روات سے منکر روایت کیونکر درست ہوگی۔
اشکال آخر :
ابن عمر (رض) کی روایات میں اگر ضعف نکل آیا تو کیا ہوا خود حضرت ابوہریرہ (رض) سے یہ روایت ثابت ہو رہی ہے۔
مندرجہ روایت سنئے۔