hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4292

.

الطحاوي

4292
Al Tahawi
۴۲۹۲: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ ، قَالَ : ثَنَا عُبَیْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَیْدِ بْنِ أَبِیْ أُنَیْسَۃَ ، عَنْ أَبِیْ اِسْحَاقَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عُمَیْرٍ ، مَوْلًی لِعُمَرَ ، عَنْ عُمَرَ مِثْلَہٗ۔وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِمَا فَوْقَ الْاِزَارِ مِنْہَا ، وَمَا تَحْتَ الْاِزَارِ اِذَا اجْتَنَبَ مَوَاضِعَ الدَّمِ .وَقَالُوْا : أَمَّا مَا ذَکَرْتُمْ مِنْ فِعْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَا حُجَّۃَ لَکُمْ فِیْ ذٰلِکَ ، لِأَنَّا نَحْنُ لَا نُنْکِرُ أَنَّ لِزَوْجِ الْحَائِضِ مِنْہَا ، مَا فَوْقَ الْاِزَارِ ، فَیَکُوْنُ ہٰذَا الْحَدِیْثُ حُجَّۃً عَلَیْنَا .بَلْ نَحْنُ نَقُوْلُ : لَہُ مِنْہَا مَا فَوْقَ الْاِزَارِ وَمَا تَحْتَہٗ، اِذَا اجْتَنَبَ مَوَاضِعَ الدَّمِ، کَمَا لَہٗ أَنْ یَفْعَلَ ذٰلِکَ قَبْلَ حُدُوْثِ الْحَیْضِ .وَاِنَّمَا ذٰلِکَ الْحَدِیْثُ ، حُجَّۃٌ عَلَی مَنْ أَنْکَرَ أَنَّ لِزَوْجِ الْحَائِضِ مِنْہَا ، مَا فَوْقَ الْاِزَارِ .فَأَمَّا مَنْ أَبَاحَ ذٰلِکَ لَہٗ، فَاِنَّ ہٰذَا الْحَدِیْثَ لَیْسَ بِحَجَّۃٍ عَلَیْہِ، وَعَلَیْکُمُ الْبُرْہَانُ بَعْدُ ، لِقَوْلِکُمْ : اِنَّہٗ لَیْسَ لَہٗ مِنْہَا اِلَّا ذٰلِکَ .فَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فِیْ ہٰذَا ، عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، مَا یُوَافِقُ مَا ذَہَبْنَا اِلَیْہِ نَحْنُ ، وَیُخَالِفُ مَا ذَہَبْتُمْ أَنْتُمْ اِلَیْہِ، وَہِیَ أَحَدُ مَنْ رَوَیْتُمْ عَنْہَا ، مِمَّا کَانَ یَفْعَلُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِنِسَائِہِ اِذَا حِضْنَ ، مَا ذَکَرْتُمْ مِنْ ذٰلِکَ .
٤٢٩٢: عاصم نے ابن عمرو سے انھوں نے عمیر مولیٰ سے انھوں نے عمر (رض) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ دوسروں نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ ازار سے اوپر نفع اٹھانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ازار سے نیچے بھی نفع اٹھاسکتا ہے بشرطیکہ خون حیض کے مقام (شرمگاہ) سے اجتناب کرے۔ دوسروں نے ان سے کہا کہ روایات مستدلہ میں جس فعل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ ہے اس میں تمہارے لیے کوئی دلیل نہیں کیونکہ ہم بھی اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ حائضہ کے خاوند کو چادر کے اوپر استعمال کا حق حاصل ہے (اگر اس کا انکار کرتے تو یہ روایت ہمارے خلاف حجت ہوتی) بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اسے تہبند کے اوپر اور نیچے دونوں پر یکساں طرز کا حق ہے بشرطیکہ وہ خون کی جگہ سے بچے (جماع سے باز رہے) جس طرح کہ اس کو حیض سے قبل حق حاصل ہوتا ہے یہ روایت تو ان لوگوں کے خلاف حجت ضرور ہے جو تہبند کے اوپر بھی خاوند کے حق کو تسلیم نہیں کرتے لیکن جن حضرات کے ہاں وہ جائز ہے ان کے خلاف ہرگز حجت نہیں آپ کو اگر اپنی اسی بات پر اصرار ہے تو اس پر واضح دلیل پیش کرو۔ کیونکہ اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل مبارک جس کو حضرت عائشہ (رض) نے نقل کیا ہے وہ ہمارے مذہب کے موافق ہے اور تمہارے مؤقف کے خلاف ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنی ازواج مطہرات سے ان کے ساتھ حالت حیض میں کیا جانے والا معاملہ جو تم نے روایت کیا وہ صرف حضرت عائشہ (رض) سے منقول ہے۔ روایت عائشہ صدیقہ (رض) یہ ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف : حالت حیض میں ازار سے اوپر نفع اٹھانے میں کوئی حرج نہیں بلکہ ازار سے نیچے بھی نفع اٹھاسکتا ہے بشرطیکہ خون حیض کے مقام (شرمگاہ) سے اجتناب کرے۔
فریق اوّل کے مؤقف و دلائل کا جواب : مذکورہ بالا روایات میں جس فعل رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا تذکرہ ہے اس میں تمہارے لیے کوئی دلیل نہیں کیونکہ ہم بھی اس بات کا انکار نہیں کرتے کہ حائضہ کے خاوند کو چادر کے اوپر کا حق حاصل ہے (اگر اس کا انکار کرتے تو یہ روایت ہمارے خلاف حجت ہوتی) بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ اسے تہبند کے اوپر اور نیچے دونوں پر یکساں طرز کا حق ہے بشرطیکہ وہ خون کی جگہ سے بچے (جماع سے باز رہے) جس طرح کہ اس کو حیض سے قبل حق حاصل ہوتا ہے یہ روایت تو ان لوگوں کے خلاف حجت ضرور ہے جو تہبند کے اوپر بھی خاوند کے حق کو تسلیم نہیں کرتے لیکن جن حضرات کے ہاں وہ جائز ہے ان کے خلاف ہرگز حجت نہیں آپ کو اگر اپنی اسی بات پر اصرار ہے تو اس پر واضح دلیل پیش کرو۔ کیونکہ اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا عمل مبارک جس کو حضرت عائشہ (رض) نے نقل کیا ہے وہ ہمارے مذہب کے موافق ہے اور تمہارے مؤقف کے خلاف ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا اپنی ازواج مطہرات سے ان کے ساتھ حالت حیض میں کیا جانے والا عمل جو تم نے روایت کیا وہ صرف حضرت عائشہ (رض) سے منقول ہے۔