hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4293

.

الطحاوي

4293
Al Tahawi
۴۲۹۳: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ ، قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ اِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِیْ مَیْسَرَۃَ ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، یُبَاشِرُنِیْ وَأَنَا فِیْ شِعَارٍ وَاحِدٍ ، وَأَنَا حَائِضٌ ، وَلٰـکِنَّہٗ کَانَ أَمْلَکَکُمْ لِأَرَبِہٖ ، أَوْ أَمْلَکَ لِأَرَبِہٖ .فَہٰذَا عَلٰی أَنَّہٗ کَانَ یُبَاشِرُہَا فِیْ اِزَارٍ وَاحِدٍ ، فَفِیْ ذٰلِکَ اِبَاحَۃُ مَا تَحْتَ الْاِزَارِ .فَلَمَّا جَائَ ہَذَا عَنْہَا ، وَقَدْ جَائَ عَنْہَا أَنَّہٗ کَانَ یَأْمُرُہَا أَنْ تَتَّزِرَ ثُمَّ یُبَاشِرُہَا ، کَانَ ہَذَا - عِنْدَنَا - عَلٰی أَنَّہٗ کَانَ یَفْعَلُ ہٰکَذَا مَرَّۃً ، وَہٰکَذَا مَرَّۃً ، وَفِیْ ذٰلِکَ اِبَاحَۃُ الْمَعْنَیَیْنِ جَمِیْعًا .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ غَیْرِ ہٰذَا الْوَجْہٖ، مَا یُوَافِقُ ہٰذَا الْقَوْلَ الَّذِیْ صَحَّحْنَا عَلَیْہِ حَدِیْثَیْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا ، لِلَّذِیْنَ ذَکَرْنَا .
٤٢٩٣: ابو میسرہ نے عائشہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے اس حالت میں مباشرت فرماتے جبکہ میں حالت حیض سے ہوتی اور صرف شعار (جسم سے لگا رہنے والا کپڑا) پہنے ہوئے ہوتی۔ لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی خواہش پر تم سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ راوی کہتے ہیں کہ املککم یا املک لاربہ فرمایا۔ اس روایت میں جو کیفیت مذکور ہے یہ اسی صورت میں ہے کہ آپ ایک تہبند میں ان کے جسم کے ساتھ جسم ملاتے اس سے ازار کے نیچے والے حصہ سے فائدہ اٹھانے کی اباحت ثابت ہوتی ہے۔ جب یہ بات ان سے مروی ہے حالانکہ دوسری روایت میں ازار باندھنے کا حکم بھی مذکور ہے کہ ان کو ازار باندھنے کا حکم فرماتے پھر ان سے مباشرت فرماتے اس کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ کبھی اس طرح کرتے اور کبھی وہ جو دوسری روایت میں مذکور ہے اس کو اختیار فرماتے پس دونوں کا جواز ثابت ہوا ایک دوسرے انداز سے اس قسم کی بات مروی ہے جو ہماری اس بات کے موافق ہے جس کو ہم نے امّ المؤمنین سے مروی دونوں حدیثوں کی تصحیح کے لیے معیار بنایا ہے ان لوگوں کے لیے جن کا ہم نے تذکرہ کیا۔
لغات : مباشرت سے یہاں جسم سے جسم چمٹانا مراد ہے۔ ارب۔ خواہش۔
حاصل روایت : اس روایت میں جو کیفیت مذکور ہے یہ اسی صورت میں ہے کہ آپ ایک تہبند میں ان کے جسم کے ساتھ جسم ملاتے اس سے ازار کے نیچے حصہ سے فائدہ اٹھانے کی اباحت ثابت ہوتی ہے۔
جب یہ بات ان سے مروی ہے حالانکہ دوسری روایت میں ازار باندھنے کا حکم بھی مذکور ہے کہ ان کو ازار باندھنے کا حکم فرماتے پھر ان سے مباشرت فرماتے اس کا مطلب ہمارے نزدیک یہ ہے کہ کبھی اس طرح کرتے اور کبھی وہ جو دوسری روایت میں مذکور ہے اس کو اختیار فرماتے پس دونوں کا جواز ثابت ہوا ایک دوسرے انداز سے اس قسم کی بات مروی ہے جو ہماری اس بات کے موافق ہے جس کو ہم نے امّ المؤمنین سے مروی دونوں حدیثوں کی تصحیح کے لیے مذکورہ بالا لوگوں کے لیے معیار بنایا ہے۔