۴۳۰۸: وَحَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ وَہْبٍ ، قَالَا : ثَنَا اللَّیْثُ ، قَالَ ابْنُ وَہْبٍ فِیْ حَدِیْثِہِ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ یَعْقُوْبَ ، وَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ صَالِحٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی الْحَارِثُ بْنُ یَعْقُوْبَ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ یَسَارٍ أَبِی الْحُبَابِ ، قَالَ : قُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ ، مَا تَقُوْلُ فِی الْجَوَارِی الْحَمِضُ بِہِنَّ ، قَالَ : وَمَا التَّحْمِیضُ فَذَکَرْت الدُّبُرَ .فَقَالَ : وَہَلْ یُفْعَلُ ذٰلِکَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ ؟ .فَقَدْ ضَادَّ ہَذَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا ، مَا قَدْ رَوَاہٗ عَنْہُ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، مِمَّا قَدْ ذَکَرْنَاہُ فِیْ ذٰلِکَ .وَالدَّلِیْلُ عَلَیْ صِحَّۃِ ہٰذَا، اِنْکَارُ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ کَانَ مِنْ أَبِیْھَا.
٤٣٠٨: عبداللہ بن صالح نے حارث بن یعقوب سے انھوں نے سعید بن یسار ابی الحباب سے نقل کیا کہ میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا آپ لونڈیوں کے متعلق کیا فرماتے ہیں کیا میں ان سے احماض کرسکتا ہوں انھوں نے پوچھا تحمیض کیا ہے میں نے لواطت کا ذکر کیا تو انھوں نے فرمایا کیا کوئی مسلمان ایسا کرسکتا ہے ؟ (یعنی نہیں کرسکتا) امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں یہ روایات فریق اوّل کی نقل کردہ روایت کے بالکل متضاد ہے اور اس روایت کی صحت پر مندرجہ ذیل روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سالم بن عبداللہ (رض) نے پہلی روایت کی اپنے والد کی طرف نسبت سے انکار کیا ہے۔
تخریج : دارمی فی الوضو باب ١١٤۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں یہ روایات فریق اوّل کی نقل کردہ روایت کے بالکل متضاد ہے اور اس روایت کی صحت پر مندرجہ ذیل روایات دلالت کرتی ہیں جن میں سالم بن عبداللہ (رض) پہلی روایت کی اپنے والد کی طرف نسبت سے انکار کیا ہے۔ (جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تصرف روات ہے)