۴۳۰۹: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَطَّافُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُوْسَی بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَسَنِ ، أَنَّ أَبَاہُ سَأَلَ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ أَنْ یُحَدِّثَہُ بِحَدِیْثِ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا ، أَنَّہٗ کَانَ لَا یَرَیْ بَأْسًا بِاِتْیَانِ النِّسَائِ فِیْ أَدْبَارِہِنَّ .فَقَالَ سَالِمٌ : کَذَبَ الْعَبْدُ ، أَوْ أَخْطَأَ ، اِنَّمَا قَالَ لَا بَأْسَ أَنْ یُؤْتَیْنَ فِیْ فُرُوْجِہِنَّ ، مِنْ أَدْبَارِہِنَّ .وَلَقَدْ قَالَ مَیْمُوْنُ بْنُ مِہْرَانَ : اِنَّ نَافِعًا اِنَّمَا قَالَ ذٰلِکَ بَعْدَ مَا کَبِرَ وَذَہَبَ عَقْلُہُ .
٤٣٠٩: موسیٰ بن عبیداللہ بن حسن نے بیان کیا کہ میرے والد نے سالم بن عبداللہ سے سوال کیا کہ وہ ان کو نافع کی وہ روایت بیان کرے جو اس نے ابن عمر (رض) سے اس طرح نقل کی ہے کہ ابن عمر (رض) عورتوں کے ساتھ وطی فی الدبر کو غلط خیال نہ کرتے تھے۔ تو سالم کہنے لگے اس بندے نے جھوٹ بولا یا خطاء کی عبداللہ (رض) نے تو اس طرح فرمایا کہ پشت کی جانب سے عورت کے ساتھ فرج (عورت کی شرمگاہ) میں جماع کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔ میمون بن مہران کہنے لگے کہ یہ بات نافع نے بڑھاپے کی حالت میں کہی ہے جبکہ ان کی عقل زائل ہوچکی تھی۔ روایت میمون یہ ہے۔