hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4312

.

الطحاوي

4312
Al Tahawi
۴۳۱۲: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا مُوْسَی بْنُ اِسْمَاعِیْلَ ، أَبُوْ سَلْمَۃَ التَّبُوذَکِیُّ ، قَالَ : ثَنَا وُہَیْبٌ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَابِطٍ ، قَالَ : أَتَیْتُ حَفْصَۃَ بِنْتَ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ فَقُلْتُ لَہَا : اِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَک عَنْ شَیْئٍ وَأَنَا أَسْتَحِی مِنْکَ، فَقَالَتْ : سَلْ یَا ابْنَ أَخِیْ عَنْ مَا بَدَا لَک .قُلْتُ :عَنْ اِتْیَانِ النِّسَائِ فِیْ أَدْبَارِہِنَّ ، قَالَتْ : حَدَّثَتْنِیْ أُمُّ سَلْمَۃَ أَنَّ الْأَنْصَارَ کَانُوْا لَا یُجِبُّوْنَ وَکَانَ الْمُہَاجِرُوْنَ یُجِبُّوْنَ وَکَانَتِ الْیَہُوْدُ تَقُوْلُ مَنْ جَبَّی ، خَرَجَ وَلَدُہُ أَحْوَلَ .فَلَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُوْنَ الْمَدِیْنَۃَ ، نَکَحُوْا نِسَائَ الْأَنْصَارِ ، فَنَکَحَ رَجُلٌ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ الْمَرْأَۃَ مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَبَّا ، فَأَبَتْ ، وَأَتَتْ أُمَّ سَلْمَۃَ فَذَکَرَتْ لَہَا ذٰلِکَ .فَلَمَّا دَخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہُ أُمُّ سَلْمَۃَ ، فَاسْتَحْیَتِ الْأَنْصَارِیَّۃُ وَخَرَجَتْ .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُدْعِیْہَا فَدَعَتْہَا ، فَقَالَ نِسَاؤُکُمْ حَرْثٌ لَکُمْ فَأْتُوْا حَرْثَکُمْ أَنَّی شِئْتُمْ صِمَامًا وَاحِدًا .فَقَدْ أَخْبَرَتْ أُمُّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بِتَأْوِیْلِ ہٰذِہِ الْآیَۃِ أَیْضًا ، وَبِتَوْقِیْفِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِیَّاہُ بِقَوْلِہٖ صِمَامًا وَاحِدًا .فَذٰلِکَ دَلِیْلٌ أَنَّ حُکْمَ ضِدِّ ذٰلِکَ الصِّمَامِ ، بِخِلَافِ حُکْمِ ذٰلِکَ الصِّمَامِ ، وَلَوْلَا ذٰلِکَ ، لَمَا کَانَ لِقَوْلِہٖ صِمَامًا وَاحِدًا مَعْنًی .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا فِیْ تَأْوِیْلِ ہٰذِہِ الْآیَۃِ مَا یَرْجِعُ مَعْنَاہُ اِلٰی ہٰذَا الْمَعْنٰی أَیْضًا .
٤٣١٢: عبدالرحمن بن سابط کہتے ہیں کہ میں حفصہ بنت عبدالرحمن کی خدمت میں آیا اور میں نے انھیں کہا میں آپ سے ایک بات دریافت کرنا چاہتا ہوں مگر مجھے پوچھتے حیاء آتی ہے۔ وہ کہنے لگیں جو چاہے دریافت کرو اے بھتیجے ! میں نے کہا عورتوں سے دبر میں جماع کا کیا حکم ہے ؟ وہ کہنے لگیں مجھے امّ سلمہ (رض) نے بیان فرمایا کہ انصاری لوگ اپنی عورتوں کو الٹا لٹا کر ان سے جماع نہ کرتے تھے اور مہاجرین عورتوں کو اوندھا لٹا کر جماع کرتے تھے یہود مدینہ کہتے تھے کہ جس نے عورت کو اوندھا لٹا کر جماع کیا اس کی اولاد بھینگی پیدا ہوگی جب مہاجرین مدینہ منورہ آئے تو انھوں نے بعض انصاری عورتوں سے نکاح کئے تو مہاجرین میں سے ایک مرد نے ایک انصاریہ سے نکاح کیا اور اس نے اپنی بیوی کو اوندھا کرنا چاہا مگر اس نے انکار کیا اور وہ جناب امّ سلمہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان سے اپنی بات بیان کی پس جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو امّ سلمہ (رض) نے یہ بات آپ کی خدمت میں پیش کی۔ انصاریہ عورت حیاء کی وجہ سے باہر نکل گئی جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اس کو بلاؤ۔ امّ سلمہ (رض) نے اس کو بلایا تو آپ نے یہ آیت پڑھی : نساؤکم حرث لکم فأتوا حرثکم انی شئتم۔ یعنی فقط ایک سوراخ (فرج) میں وہ جماع کرسکتا ہے۔ یہ روایت اس بات کی واضح دلیل ہے اس خاص سوراخ (فرج) کا حکم اس سوراخ کے علاوہ سے مختلف ہے اگر ان دونوں کا حکم یکساں ہوتا تو صمامًا واحدًا کہنے کا کوئی معنی نہ تھا۔
تخریج : دارمی فی الوضو باب ١١٣‘ مسند احمد ٦‘ ٣٠٥؍٣١٠‘ ٣١٨؍٣١٤۔
اور اس کی تائید ابن عباس (رض) کے قول سے بھی ہوتی ہے۔