۴۳۳۷: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا یَحْیَیْ بَعْدَ سَعِیْدٍ الْقَطَّانِ ، قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ أَبِیْ عَرُوْبَۃَ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِیْ أَیُّوْبَ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ فِی الَّذِیْ یَأْتِی امْرَأَتَہُ فِیْ دُبُرِہَا ، قَالَ : اللُّوْطِیَّۃُ الصُّغْرَی .وَمَا فِیْ ہٰذَا الْبَابِ عَنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَضِیَ عَنْہُمْ وَتَابِعِیْہِمْ فِیْ مُوَافَقَۃِ ہٰذَا الْمَعْنَیْ اِلَیْ ہُنَا ، فَأَکْثَرُ مِنْ أَنْ یُسْتَقْصَی ، وَلٰـکِنَّا حَذَفْنَا لَک مِنْ کِتَابِنَا لِکَثْرَتِہٖ وَطُوْلِہٖ .فَلَمَّا تَوَاتَرَتْ ہٰذِہِ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالنَّہْیِ عَنْ وَطْئِ الْمَرْأَۃِ فِیْ دُبُرِہَا ، ثُمَّ جَائَ عَنْ أَصْحَابِہٖ ، وَعَنْ تَابِعِیْہِمْ مَا یُوَافِقُ ذٰلِکَ وَجَبَ الْقَوْلُ بِہٖ ، وَتَرْکُ مَا یُخَالِفُہُ .وَہٰذَا أَیْضًا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدٍ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ أَجْمَعِیْنَ ، وَاللّٰہُ أَعْلَمُ بِالصَّوَابِ .
٤٣٣٧: ابو ایوب نے عبداللہ بن عمرو سے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص اپنی عورت سے دبر میں جماع کرے تو اس نے چھوٹی لواطت کا ارتکاب کیا۔ صحابہ کرام اور تابعین سے اس مؤقف کی تائید لاتعداد دلائل سے ہوتی ہے مگر ہم نے ان میں چند کا تذکرہ کردیا تاکہ باب طویل نہ ہوجائے۔ جب ممانعت کے یہ آثار متواتر ہیں کہ وطی فی الدبر ناجائز ہے صحابہ کرام تابعین عظام سے ان کی موافقت و تائید ہوتی ہے تو ضروری ہے کہ اسی کے موافق قول کیا جائے اور جو قول اس کے مخالف ہے اسے ترک کردیا جائے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) اجمعین کا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب
خلاصۃ الباب : صحابہ کرام اور تابعین سے فریق ثانی کے مؤقف کی تائید لاتعداد دلائل سے ہوتی ہے مگر ہم نے ان میں چند کا تذکرہ کردیا تاکہ باب طویل نہ ہوجائے۔
جب ممانعت کے یہ آثار متواتر ہیں کہ وطی فی الدبر ناجائز ہے صحابہ کرام تابعین عظام کے اقوال سے ان کی موافقت و تائید ہوتی ہے تو ضروری ہے کہ اسی کے موافق قول کیا جائے اور جو قول اس کے مخالف ہے اسے ترک کردیا جائے۔ یہی قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) اجمعین کا ہے۔