۴۳۳۸: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِی غَنِیَّۃَ ، عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ حُمَیْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُہَاجِرِ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ أَبِیْہِ، عَنْ أَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ الْأَنْصَارِیَّۃِ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : لَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَکُمْ سِرًّا فَاِنَّ قَتْلَ الْغَیْلِ یُدْرِکُ الْفَارِسَ الْبَطَلَ أَیْ الشُّجَاعَ فَیُدَعْثِرُہُ عَنْ ظَہْرِ فَرَسِہِ .
٤٣٣٨: محمد بن مہاجر انصاری نے اپنے والد سے انھوں نے اسماء بنت یزید انصاریہ (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا ہے کہ تم اپنی اولاد کو غیر شعوری طور پر قتل مت کرو۔ بیشک حالت حمل میں دودھ پلانے کا قتل بہادر نوجوان کو گھوڑے کی پیٹھ سے گرا دیتا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطب باب ١٦‘ ابن ماجہ فی النکاح باب ٦١‘ مسند احمد ٦‘ ٤٥٣؍٤٥٧‘ ٤٥٨۔
لغات : الغیل۔ حالت حمل میں دودھ پلانا۔ البطل۔ بہادر ‘ یرعشر۔ لڑکھڑا کر گرانا۔ ہلاک کرنا۔