hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 4340

.

الطحاوي

4340
Al Tahawi
۴۳۴۰: بِمَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ أَبِیْ مَرْیَمَ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ أَیُّوْبَ قَالَ : أَخْبَرَنِیْ أَبُو النَّضْرِ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ، أَنَّ أُسَامَۃَ بْنَ زَیْدٍ أَخْبَرَ وَالِدَہُ سَعْدَ بْنَ أَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ : اِنَّ رَجُلًا جَائَ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنِّیْ أَعْزِلُ عَنْ امْرَأَتِی قَالَ لِمَ ؟ قَالَ : شَفَقَۃً عَلَی الْوَلَدِ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْ کَانَ کَذٰلِکَ فَلَا ، مَا کَانَ لِیَضُرَّ فَارِسَ وَالرُّوْمَ .فَفِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ اِبَاحَۃُ وَطْئِ الْحَبَالَی ، وَاِخْبَارٌ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ ذٰلِکَ اِذَا کَانَ لَا یَضُرُّ فَارِسَ وَالرُّوْمَ ، فَاِنَّہٗ لَا یَضُرُّ غَیْرَہُمْ .فَخَالَفَ ہٰذَا الْحَدِیْثُ ، حَدِیْثَ أَسْمَائَ ، فَأَرَدْنَا أَنْ نَنْظُرَ أَیُّہُمَا النَّاسِخُ لِلْآخَرِ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ .فَوَجَدْنَا یُوْنُسَ قَدْ ۔
٤٣٤٠ : عامر بن سعد کہتے ہیں کہ اسامہ بن زید (رض) نے میرے والد سعد کو بتلایا کہ ایک آدمی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا۔ میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں یعنی جماع نہیں کرتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کیوں ؟ اس نے عرض کیا۔ بچے کے متعلق خطرہ محسوس کرتے ہوئے اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اگر اسی طرح ہے تو ایسا مت کرو۔ وہ فارس و روم کو نقصان دینے والا نہیں (یعنی وہ حالت حمل میں جماع کرتے ہیں اور اس سے بچے کو نقصان نہیں پہنچتا تو تمہارے بچے کو کیوں کر پہنچ جائے گا) روایت سے حاملہ عورت سے وطی کا ثبوت مل رہا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب فارس وروم کو نقصان دہ نہیں تو تمہیں بھی اس سے کچھ نقصان نہ ہوگا یہ روایت فریق اوّل کی مستدل روایت اسماء (رض) کے خلاف ہے اب ہمیں ان میں سے ناسخ کی تلاش کے لیے روایت تلاش کرنا ضروری ہے۔
اس روایت سے حاملہ عورت سے وطی کا ثبوت مل رہا ہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب فارس وروم کو نقصان دہ نہیں تو تمہیں بھی اس سے کچھ نقصان نہ ہوگا یہ روایت فریق اوّل کی مستدل روایت اسماء (رض) کے خلاف ہے اب ہمیں ان میں سے ناسخ کی تلاش کے لیے روایت تلاش کرنا ضروری ہے۔
مندرجہ روایات ملاحظہ ہوں۔