۴۳۴۸: فَاِنَّہٗ قَدْ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَامِرٍ ، قَالَ : ثَنَا اِسْرَائِیْلُ ، قَالَ : ثَنَا سِمَاکٌ عَنْ مُوْسَی بْنِ طَلْحَۃَ عَنْ أَبِیْہَ أَنَّہٗ قَالَ : مَرَرْتُ مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ نَخْلِ الْمَدِیْنَۃِ، فَاِذَا أُنَاسٌ فِیْ رُئُوْسِ النَّخْلِ ، یُلَقِّحُوْنَ النَّخْلَ .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا یَصْنَعُ ہٰؤُلَائِ؟ فَقِیْلَ : یَأْخُذُوْنَ مِنَ الذَّکَرِ فَیَجْعَلُوْنَہُ فِی الْأُنْثَی ، فَقَالَ : مَا أَظُنُّ ذٰلِکَ یُغْنِی شَیْئًا فَبَلَغَہُمْ فَتَرَکُوْھُ وَنَزَعُوْا عَنْہَا .فَبَلَغَ ذٰلِکَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنَّمَا ہُوَ ظَنٌّ ظَنَنْتہ ، اِنْ کَانَ یُغْنِی شَیْئًا فَلْیَصْنَعُوْھُ ، فَاِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِثْلُکُمْ ، وَاِنَّمَا ہُوَ ظَنٌّ ظَنَنْتہ ، وَالظَّنُّ یُخْطِئُ وَیُصِیْبُ ، وَلٰـکِنْ مَا قُلْتُ لَکُمْ قَالَ اللّٰہٗ، فَلَنْ أَکْذِبَ عَلَی اللّٰہِ .ق
٤٣٤٨: موسیٰ بن طلحہ نے اپنے والد سے نقل کیا کہ وہ فرماتے تھے میرا گزر عبیداللہ کی معیت میں مدینہ منورہ کے باغات نخل میں سے کسی کے پاس سے ہوا۔ لوگ کھجوروں پر چڑھ کر ان کی تابیر کر رہے تھے تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہ لوگ کیا کر رہے ہیں ؟ آپ سے عرض کیا گیا یہ نر کھجور سے مادہ کی پیوند کاری کر رہے ہیں۔ آپ نے فرمایا میرے خیال میں تو یہ کچھ بھی فائدہ مند نہیں ہے جب ان صحابہ کرام کو یہ بات پہنچی تو انھوں نے اس کام کو چھوڑ دیا اور اس سے ہاتھ کھینچ لیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا وہ تو میرا ایک گمان تھا جو میں نے کیا اور گمان درست و نادرست دونوں طرح ہوتا ہے۔ اگر اس سے کچھ فائدہ ہے تو انھیں کرنا چاہیے۔ بلاشبہ میں تمہاری طرح ایک انسان ہوں وہ میرا گمان ہے جو میں نے کیا گمان دونوں طرح ہوتا ہے میں نے یہ تو نہیں کہا تھا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اس لیے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف ہرگز جھوٹی نسبت نہیں کرسکتا۔
تخریج : مسلم فی الفضائل روایت ١٤١‘ مسند احمد ٣؍١٥٢۔