۴۳۶۰: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ وَابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ ، قَالَ : ثَنَا ثَوْرُ بْنُ یَزِیْدَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ لُحَی ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ قُرْطٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ الْأَیَّامِ اِلَی اللّٰہِ یَوْمُ النَّحْرِ ، ثُمَّ یَوْمُ عَرَفَۃَ .فَقَرَّبْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٍ خَمْسًا أَوْ سِتًّا ، فَطَفِقْنَ یَزْدَلِفْنَ اِلَیْہِ، بِأَیَّتِہِنَّ یَبْدَأُ فَلَمَّا وَجَبَتْ أَیْ سَقَطَتْ جُنُوْبُہَا ، قَالَ کَلِمَۃً خَفِیْفَۃً لَمْ أَفْہَمْہَا .فَقُلْتُ لِلَّذِیْ کَانَ اِلَیْ جَنْبِیْ مَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ؟ فَقَالَ : قَالَ مَنْ شَائَ اقْتَطَعَ .فَلَمَّا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ مَنْ شَائَ اقْتَطَعَ وَأَبَاحَ ذٰلِکَ ، دَلَّ ہَذَا أَنَّ مَا أَبَاحَہُ رَبُّہُ لِلنَّاسِ مِنْ طَعَامٍ ، أَوْ غَیْرِہٖ، فَلَہُمْ أَنْ یَأْخُذُوْا مِنْ ذٰلِکَ ، وَہٰذَا خِلَافُ النُّہْبَۃِ الَّتِیْ نَہٰی عَنْہَا فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ .فَثَبَتَ بِمَا ذَکَرْنَا أَنَّ النُّہْبَۃَ الَّتِیْ فِی الْآثَارِ لِلْأَوَّلِ ، ہِیَ نُہْبَۃٌ مَا لَمْ یُؤْذَنْ فِیْہِ، وَأَنَّ مَا أُبِیْحَ مِنْ ذٰلِکَ وَأُذِنَ فِیْہِ، فَعَلٰی مَا فِیْ ہٰذَا الْأَثَرِ الثَّانِی .وَقَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَدِیْثٌ مُنْقَطِعٌ قَدْ فَسَّرَ حُکْمَ النُّہْبَۃِ الْمَنْہِیِّ عَنْہَا وَالنُّہْبَۃِ الْمُبَاحَۃِ ، وَاِنَّمَا أَرَدْنَا بِذِکْرِہِ ہٰہُنَا تَفْسِیْرَہُ لِمَعْنٰی ہٰذَا الْمُتَّصِلِ .
٤٣٦٠: عبداللہ بن لحی نے عبداللہ بن قرط (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے ہاں نحر کا دن محبوب ترین ایام میں سے ہے۔ پھر اس کے بعد عرفہ کا دن ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پانچ یا چھ اونٹ پیش کئے گئے تو ان میں سے ہر ایک کھسک کر آپ کے قریب ہونے لگا تاکہ ان میں سے جس سے چاہیں نحر میں ابتداء کریں۔ جب ان کو نحر کردیا گیا تو وہ اپنے پہلوؤں کے بل گرپڑے تو اس وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آہستہ سے ایک بات فرامائی جس کی مجھے سمجھ نہیں آئی۔ جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس روایت میں ” من شاء اقتطع “ فرمایا اور اس کو تمام کے لیے مباح کردیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کھانا وغیرہ لوگوں کے لیے مباح کیا ہے اس میں سے لینا جائز ہے یہ وہ لوٹ نہیں جس کا تذکرہ ان آثار میں وارد ہے جن سے فریق اوّل کا استدلال ہے۔ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک منقطع روایت وارد ہے۔ جس میں ممنوعہ اور مباح لوٹ کا تذکرہ ہے ہم اس روایت کو یہاں اس لیے ذکر کریں گے کیونکہ اس کا مفہوم تو اتصال سے ثابت ہے۔ روایت یہ ہے :
MU میں نے اس شخص سے پوچھا جو میرے پہلو میں تھا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا فرمایا۔ اس نے بتلایا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہے جو چاہے ان میں سے گوشت کاٹ لے۔
تخریج : مسند احمد ٤؍٣٥٠۔
نوٹ : جب جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس روایت میں ” من شاء اقتطع “ فرمایا اور اس کو تمام کے لیے مباح کردیا اس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کھانا وغیرہ لوگوں کے لیے مباح کیا ہے اس میں سے لینا جائز ہے یہ وہ لوٹ نہیں جس کا تذکرہ ان آثار میں وارد ہے جن سے فریق اوّل کا استدلال ہے۔
جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ایک منقطع روایت وارد ہے۔ جس میں ممنوعہ اور مباح لوٹ کا تذکرہ ہے ہم اس روایت کو یہاں اس لیے ذکر کریں گے کیونکہ اس کا مفہوم تو اتصال سے ثابت ہے۔ روایت یہ ہے۔