۴۳۶۱: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ مُعَاوِیَۃَ الْعَتَّابِیُّ ، قَالَ : ثَنَا عَوْنُ بْنُ عُمَارَۃَ ، قَالَ : ثَنَا زِیَادُ بْنُ الْمُغِیْرَۃِ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ یَزِیْدَ ، عَنْ خَالِدٍ عَنْ مَعْدَانَ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ، قَالَ : شَہِدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِلَاکَ شَاب مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَلَمَّا زَوَّجُوْھُ قَالَ عَلَی الْأُلْفَۃِ وَالطَّیْرِ الْمَیْمُوْنِ وَالسَّعَۃِ فِی الرِّزْقِ ، بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ دَفِّفُوْا عَلٰی رَأْسِ صَاحِبِکُمْ فَلَمْ یَلْبَثْ أَنْ جَائَ تِ الْجَوَارِی مَعَہُنَّ الْأَطْبَاقُ ، عَلَیْہَا اللَّوْزُ وَالسُّکَّرُ ، فَأَمْسَکَ الْقَوْمُ أَیْدِیَہُمْ .فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَلَا تَنْتَہِبُوْنَ ؟ فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ، اِنَّک کُنْتُ نَہَیْتُ عَنِ النُّہْبَۃِ ، قَالَ تِلْکَ نُہْبَۃُ الْعَسَاکِرِ ، فَأَمَّا الْعُرْسَاتُ فَلَا قَالَ : فَرَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُجَاذِبُہُمْ وَیُجَاذِبُوْنَہُ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ جَمَاعَۃٍ مِنَ الْمُتَقَدِّمِیْنَ فِیْ ذٰلِکَ اخْتِلَافٌ أَیْضًا .
٤٣٦١: خالد بن معدان نے معاذ بن جبل (رض) سے نقل کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک انصاری نوجوان کی شادی میں تشریف لے گئے جب اس کا نکاح کردیا تو آپ نے فرمایا الفت ‘ نیک فالی ‘ وسعت رزق میسر ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں برکت دے اپنے دولھا کے پاس دف بجاؤ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ انصاری بچیاں آگئیں ان کے پاس تھال تھے جن میں اخروٹ ‘ شکر تھی لوگوں نے اپنے ہاتھ روک لیے تو جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم لوٹتے کیوں نہیں ؟ انھوں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے لوٹ سے منع فرمایا آپ نے فرمایا وہ لشکروں کی لوٹ ہے (جس کی ممانعت ہے) شادیوں کی لوٹ ممنوع نہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا آپ تھال لینے میں ان سے کھینچا تانی کر رہے تھے اور وہ آپ سے کھینچاتانی کرتے تھے۔
اختلاف متقدمین کا تذکرہ :
متقدمین کی ایک جماعت نے بھی اس میں اختلاف کیا ہے۔