۴۳۶۲: حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَ : ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَ : أَنَا اِسْرَائِیْلُ ، عَنْ أَبِیْ حُصَیْنٍ ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ یَسَارٍ أَنَّہٗ کَانَ لِابْنِ مَسْعُوْدٍ صِبْیَانٌ فِی الْکُتَّابِ فَأَرَادَ أَنْ یَنْتَہِبُوْا عَلَیْہِمْ ، فَاشْتَرَی لَہُمْ جَوْزًا بِدِرْہَمَیْنِ ، وَکَرِہَ أَنْ یَنْتَہِبُوْا مَعَ الصِّبْیَانِ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ ذٰلِکَ ، عَلَی الْخَوْفِ مِنْہُ عَلَیْہِمْ مِنَ النُّہْبَۃِ ، لَا لِغَیْرِ ذٰلِکَ .
٤٣٦٢: عبداللہ بن یسار کہتے ہیں کہ ابن مسعود (رض) کے بچے لکھنے میں مصروف تھے انھوں نے چاہا کہ وہ آپس میں چھینا جھپٹی کریں تو دو درہم کے اخروٹ خرید کر انھیں دیئے اور خود بچوں کے ساتھ چھینا جھپٹی میں شرکت کو ناپسند کیا۔
بچوں کے ساتھ شریک نہ ہونے میں عین ممکن ہے یہ بات پیش نظر ہو کہ ان کا نقصان نہ ہو اور کوئی وجہ مانع نہ ہو۔