۴۳۶۵: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ ، قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْجَعْدِ ، قَالَ : ثَنَا سَعِیْدٌ ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ : کُنْتُ أَمْشِیْ بَیْنَ اِبْرَاھِیْمَ وَالشَّعْبِیِّ ، فَتَذَاکَرَا اِنْثَارَ الْعُرْسِ ، فَکَرِہَہٗ اِبْرَاھِیْمُ ، وَلَمْ یَکْرَہْہُ الشَّعْبِیُّ .فَقَدْ یَجُوْزُ أَیْضًا أَنْ یَکُوْنَ اِبْرَاھِیْمُ ، کَرِہَ ذٰلِکَ مِنْ أَجْلِ مَا ذَکَرْنَا مِنْ خَوْفِ الْعَطَبِ عَلَی الْمُنْتَہِبِیْنَ .فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ ،
٤٣٦٥: حکم کہتے ہیں کہ میں ابراہیم اور شعبی کے درمیان چلا جا رہا تھا دونوں نے شادی کی لوٹ کے سلسلہ میں باہمی مذاکرہ کیا ابراہیم نے اس کو ناپسند کیا جبکہ شعبی نے اس کو ناپسند نہ کیا۔
ایک تاویل : ابراہیم کے ناپسند کرنے میں ممکن ہے کہ لوٹنے والوں کی ہلاکت کا خطرہ ناپسندیدگی کا باعث ہو۔ چنانچہ اس تاویل کی تائید صالح بن عبدالرحمن کے قول سے ہوتی ہے۔