۴۳۶۶: فَاِذَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ ، قَدْ حَدَّثَنَا قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ ، قَالَ : ثَنَا ہِشَامٌ ، عَنْ مُغِیْرَۃَ ، عَنْ اِبْرَاھِیْمَ ، فِی النِّہَابِ فِی الْعُرْسِ ، قَالَ کَانُوْا یَأْخُذُوْنَہٗ لِلصِّبْیَانِ .فَدَلَّ مَا رُوِیَ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ فِیْ ہٰذَا ، مَعَ ذِکْرِہِ عَمَّنْ کَانَ قَبْلَہٗ، مِمَّنْ یُقْتَدَی بِہٖ ، أَنَّہُمْ کَانُوْا یَأْخُذُوْنَہٗ لِلصِّبْیَانِ فِیْ ہٰذَا الْحَدِیْثِ - أَنَّ کَرَاہَتَہُ لَہُ فِی الْبَابِ الْأَوَّلِ ، لَیْسَ مِنْ جِہَۃِ تَحْرِیْمِہٖ، وَلٰـکِنْ مِنْ جِہَۃِ مَا ذَکَرْنَاہُ .
٤٣٦٦: مغیرہ نے ابراہیم سے شادی کی لوٹ کے متعلق نقل کیا کہ وہ بچوں کے لیے اس کو لے لیتے تھے۔
حاصل اثر : ابراہیم کے اس طرز عمل اور دیگر قابل اقتداء شخصیات کے طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بچوں کے لیے لوٹ لیتے تھے اور باب اوّل میں اس کی مذکورہ کراہت کی وجہ حرمت نہ تھی بلکہ لوٹنے والوں کی ہلاکت کا خدشہ تھا جیسا کہ ہم نے ذکر کردیا۔