۴۳۶۸: حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیْدٍ الْقَطَّانُ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، قَالَ: لَا بَأْسَ بِانْتِہَابِ الْجَوْزِ ، وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ سِیْرِیْنَ : یَصَعُوْنَ فِیْ أَیْدِیْہِمْ .وَمَا فِیْہِ الْاِبَاحَۃُ مِنْ ہٰذِہِ الْآثَارِ - عِنْدَنَا - أَوْجَہُ فِی النَّظَرِ ، مِمَّا فِیْہِ الْکَرَاہِیَۃُ مِنْہَا ، وَہٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ ، وَأَبِیْ یُوْسُفَ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ ، رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِمْ .
٤٣٦٨: اشعث نے حسن (رح) سے نقل کیا کہ اخروٹ کی لوٹ میں کوئی حرج نہیں ابن سیرین کہتے ہیں وہ لوٹ کی چیز ان کے ہاتھوں میں رکھ دیں گے۔ ہمارے ہاں جن آثار سے اباحت ثابت ہوتی ہے وہ زیادہ بہتر ہیں ان آثار سے جن سے کراہت و حرمت ثابت ہوتی ہے یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد بن حسن (رح) کا قول ہے۔
ارشاد طحاوی (رح) :
ہمارے ہاں جن آثار سے اباحت ثابت ہوتی ہے وہ زیادہ بہتر ہیں ان آثار سے جن سے کراہت و حرمت ثابت ہوتی ہے یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد بن حسن (رح) کا قول ہے۔