۴۳۶۹: حَدَّثَنَا أَبُوْبَکْرَۃَ وَاِبْرَاھِیْمُ بْنُ مَرْزُوْقٍ ، قَالَا : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، عَنْ أَبِی الزُّبَیْرِ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمٰنِ بْنَ أَیْمَنَ یَسْأَلُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ ، عَنِ الرَّجُلِ یُطَلِّقُ امْرَأَتَہٗ وَہِیَ حَائِضٌ ، قَالَ : فَعَلَ ذٰلِکَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُمَرَ .فَسَأَلَ عُمَرُ عَنْ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا حَتّٰی تَطْہُرَ ، ثُمَّ یُطَلِّقْہَا ، قَالَ : ثُمَّ تَلَا اِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَائَ فَطَلِّقُوْھُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ أَیْ فِیْ قُبُلِ عِدَّتِہِنَّ .
٤٣٦٩: ابوالزبیر کہتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن ایمن کو سنا کہ وہ ابن عمر (رض) سے اس آدمی کے متعلق دریافت کر رہے تھے جو اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دے دے وہ کہنے لگے یہ فعل تو عبداللہ بن عمر (رض) نے خود کیا ہے۔ چنانچہ اس کے متعلق عمر (رض) نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو انھوں نے کہا اس کو کہو کہ وہ رجوع کرے یہاں تک کہ وہ عورت حیض سے پاک ہوجائے پھر وہ اس کو طلاق دے پھر یہ آیت تلاوت { اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآئَ فَطَلِّقُوْہُنَّ لِعِدَّتِہِنَّ وَاَحْصُوا الْعِدَّۃَ ٥ وَاتَّقُوا اللّٰہَ رَبَّکُمْ ٥ لَا تُخْرِجُوْہُنَّ مِنْ ٠ بُیُوْتِہِنَّ وَلَا یَخْرُجْنَ اِلَّا ٓ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَۃٍ مُّبَیِّنَۃٍ ١ وَتِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ ١ وَمَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰہِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَہٗ ١ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰہَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِکَ اَمْرًا } (الطلاق : ١) یعنی ایسے وقت میں جو عدت کے سامنے ہو یعنی جس میں وہ عدت کا استقبال کرسکیں اور ان کو عدت میں داخل ہونا ممکن ہو۔
فریق اوّل کا مؤقف : حیض میں طلاق دینا گناہ ہے مگر طلاق پڑجائے گی اس کو رجوع کر کے غلط طلاق کے اسباب سے نکل جانا چاہیے۔ رجوع کر کے جب حیض سے پاک ہو تو پھر طلاق سنت دے اگر اس میں رجوع کرلیا تو عدت باطل ورنہ طلاق سنت کی عدت سے خود بائنہ ہوجائے گی۔
فریق اوّل کی مستدل روایات یہ ہیں۔
تخریج : بخاری فی تفسیر سورة ٦٥‘ باب ١‘ طلاق باب ١‘ ٤٤‘ الاحکام باب ١٣‘ مسلم فی الطلاق ١‘ ٢‘ ٣‘ ٨‘ ابو داؤد فی الطلاق باب ٤‘ ابن ماجہ فی الطلاق باب ٢‘ دارمی فی الطلاق باب ١‘ مالک فی الطلاق ٥٣‘ مسند احمد ٢؍٥٤‘ ٦١؍٧٤‘ ٧٨؍٨١‘ ٨٩؍١٠٢۔