۴۳۷۵: حَدَّثَنَا فَہْدٌ ، قَالَ : ثَنَا الْفَضْلُ ، قَالَ : ثَنَا زُہَیْرُ بْنُ مُعَاوِیَۃَ ، قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِیْرِیْنَ ، قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ کَیْفَ صَنَعْتُ فِیْ اِمْرَأَتِکَ الَّتِی طَلَّقْتُ؟ قَالَ: طَلَّقْتُہَا وَہِیَ حَائِضٌ ، فَذُکِرَ ذٰلِکَ لِعُمَرَ ، فَأَتٰی عُمَرُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہٗ، فَقَالَ مُرْہُ فَلْیُرَاجِعْہَا ، ثُمَّ لِیُطَلِّقْہَا عِنْدَ طُہْرٍ .قَالَ: فَقُلْتُ، جُعِلْتُ فِدَاکَ، فَیُعْتَدُّ بِالطَّلَاقِ الْأَوَّلِ؟ قَالَ : وَمَا یَمْنَعُنِیْ اِنْ کُنْتَ أَسَأْتَ وَاسْتَحْمَقْتَ .
٤٣٧٥: انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر (رض) سے پوچھا تم نے اپنی مطلقہ عورت کے متعلق کیسے معاملہ کیا ؟ تو وہ کہنے لگے میں نے اس کو حیض میں طلاق دی جب یہ بات عمر (رض) کو پہنچی تو وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آئے اور ان سے سوال کیا آپ نے فرمایا اس کو رجوع کا کہو پھر وہ طہر میں طلاق دے۔ میں نے کہا میں آپ پر قربان جاؤں ! کیا طلاق اوّل کو شمار کیا جائے گا۔ کہنے لگے۔ مجھے اس کو شمار کرنے سے کیا چیز مانع ہے اگر تو نے زیادتی اور حماقت کی ہو۔
تخریج : مسلم فی الرضاع ٧٨‘ مسند احمد ١؍٤٤۔